گندم کی امدادی قیمت!
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے آئندہ ربیع سیزن کیلئے گندم کی کم از کم امدادی قیمت پانچ ہزار روپے فی من یا اس سے زائد مقرر کرنے اور ملک بھر کے کسانوں کیلئے سبسڈی کا یکساں نظام وضع کرنے کی سفارش کی ہے۔ پاکستان میں گندم قومی غذائی تحفظ کی بنیاد ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی پالیسی میں تسلسل نہ ہونے‘ بروقت فیصلے نہ کیے جانے اور ذخیرہ و مارکیٹ کے کمزور انتظام کی وجہ سے تقریباً ہر سال کسی نہ کسی شکل میں گندم اور آٹے کا بحران سامنے آتا ہے۔ رواں سال بھی گندم کی کٹائی کو زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا کہ مارکیٹ میں قلت اور قیمتوں کے حوالے سے مسائل پیدا ہونے لگے اور حکومت کو ساڑھے سات لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

حکومت کو آئندہ ربیع سیزن کیلئے بوائی سے پہلے امدادی قیمت کا اعلان کرنا چاہیے۔ بروقت قیمت کا اعلان کسان کو زیادہ گندم کاشت کرنے کی ترغیب دے گا۔ ہر سال نئی پالیسی‘ نئے اعلانات اور بحران کے بعد ہنگامی فیصلے کسان اور مارکیٹ دونوں میں غیر یقینی پیدا کرتے ہیں۔ اگر پانچ سال تک کیلئے گندم پالیسی واضح اہداف‘ امدادی قیمت‘ یکساں سبسڈی‘ مناسب ذخائر اور صوبائی و وفاقی سطح پر مؤثر رابطہ کاری کے ساتھ نافذ کی جائے تو گندم بحران کے مسئلے کو وقتی کے بجائے مستقل بنیادوں پر حل کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔