بھارتی فورسز کی اشتعال انگیزی
بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کی جانب سے بیدیاں سیکٹر میں دو پاکستانی شہریوں کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کا واقعہ بھارت کے مسلسل اشتعال انگیز رویے کی ایک اور سنگین مثال ہے۔ اس اشتعال انگیزی پر وزارتِ خارجہ نے بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق بی ایس ایف اہلکاروں نے نہتے شہریوں کیخلاف بلااشتعال اور مہلک طاقت استعمال کی‘ جو سراسر بلاجواز اور انتہائی غیر متناسب تھی۔ پاکستان نے مقتولین کو ’’درانداز‘‘ قرار دینے کی بھارتی کوشش بھی واضح طور پر مسترد کردی ہے۔ معرکۂ حق میں شکست کے بعد بھارتی حکومت اور اس کی افواج کی بوکھلاہٹ مختلف صورتوں میں سامنے آتی رہی ہے۔ اپنی خفت مٹانے کیلئے کبھی آبی وسائل کو دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے‘ کبھی پاکستان پر دہشتگردی کے بے بنیاد الزامات عائد کیے جاتے ہیں اور اب سرحدی علاقوں میں نہتے پاکستانی شہری بھارتی فورسز کے ہیجان کا نشانہ بن رہے ہیں۔

دفتر خارجہ نے بجا طور پر اس واقعے کو بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ سرحد پر کشیدگی اپنی جگہ مگر نہتے شہریوں پر فائرنگ کے اس واقعے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت معرکہ حق میں اپنی شکست کو ایسی وحشت و بہیمیت کے پیچھے نہیں چھپا سکتا۔ اسے بنیادی انسانی حقوق‘عالمی قوانین اور سرحدی امور سے متعلق طے شدہ طریقۂ کار کی پابندی کرنا ہی ہوگی۔