اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

سیاست کا امتحان

ہفتے کے روز حکومت اور اپوزیشن کے دوسرے مذاکراتی دور کا باقاعدہ اعلامیہ اگرچہ رات گئے تک سامنے نہیں آ سکا تاہم سیاسی حلقوں سے سامنے آ رہی اطلاعات میں مثبت خبروں اور بریک تھرو کا تاثر دیا گیا۔ حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں اطراف سے یہ امید دلائی گئی کہ سیاسی معاملات سیاسی فورم پر ہی حل ہوں گے اور احتجاج کی نوبت نہیں آئے گی۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کی معیشت نازک ترین دور سے گزر رہی ہے اور عوام مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘ سیاسی درجہ حرارت میں غیر معمولی حدت اور احتجاج کا تاثر کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ سیاسی مسائل کا حل ہمیشہ سیاسی ایوانوں میں ہی نکلنا چاہیے۔ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب بھی سیاستدان اپنے مسائل پارلیمنٹ اور مذاکراتی میز کے بجائے سڑکوں پر لائے یا غیر آئینی طریقوں کے ذریعے حل کرنے کی کوشش میں لگ گئے تو سب سے زیادہ ٹھیس جمہوریت اور خود سیاسی نظام کو پہنچی۔ اگر موجودہ تعطل کا حل پُرامن اور جمہوری طریقے سے نکالا گیا تو نہ صرف سیاسی ہیجان کا خاتمہ ہو گا بلکہ ملک کا جمہوری اور پارلیمانی نظام بھی مزید مضبوط اور معتبر ہو کر ابھرے گا۔ مذاکرات کے اس دوسرے دور میں جو سب سے بڑی رکاوٹ نظر آئی‘ وہ دونوں اطراف کیلئے فیس سیونگ یعنی اپنی سیاسی ساکھ بچانے کا مسئلہ ہے۔

حکومت اور اپوزیشن‘ دونوں ہی اس وقت ایک ایسی پوزیشن پر کھڑے ہیں جہاں وہ مذاکرات کا اختتام محض اپنی فتح کے اعلان پر چاہتے ہیں۔ فیس سیونگ کی یہ دوڑ اکثر فریقین کو سیاست میں لچک دکھانے سے روکتی ہے‘ نتیجتاً وہ معاملات جو طے پا چکے ہوتے ہیں‘ وہ بھی چھوٹی چھوٹی باتوں پر کٹھنائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اربابِ حل و عقد کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست افہام و تفہیم اور کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی کا نام ہے۔ بڑے مقاصد کو چھوٹی چھوٹی باتوں یا جھوٹی انا پر قربان نہیں کیا جا سکتا۔ گزشتہ روز مذاکراتی نشست میں دونوں اطراف سے ایک دوسرے کے رہنمائوں کے ٹویٹس کو لے کر بداعتمادی پیدا ہوئی۔ اس وقت جبکہ مذاکرات کا عمل ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے تو ضروری ہے کہ دونوں کیمپوں میں موجود ہارڈ لائنرز کو پچھلی صفوں میں رکھا جائے اور کوئی ایسی بات‘ ایسی غیر ضروری بیان بازی نہ کی جائے جو معاملات کو سبوتاژ کرے یا دوبارہ تلخی کی طرف دھکیلے۔ اس سے بچنے کیلئے طرفین کی اعلیٰ قیادت پر مشتمل ایک ورکنگ کمیٹی قائم کی جا سکتی ہے جو تمام معاملات کی نگرانی کرے اور بداعتمادی کا تدارک کرے۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ حکومت ہو یا اپوزیشن‘ دونوں اطراف کچھ ایسی آوازیں موجود ہیں جن کا سیاسی وجود ہی محاذ آرائی اور اشتعال انگیزی پر قائم ہے۔ یہ عناصر کسی بھی قسم کی مصالحت کو اپنی سیاسی موت یا شکست سے تعبیر کرتے ہیں۔

لہٰذا اگر سیاسی قیادت واقعی ملک کو بحران سے نکالنا چاہتی ہے تو ان عناصر کو سائیڈ لائن کرنا اور انہیں خاموش کرانا پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔ جب تک اعتدال پسند رہنماؤں کو آگے بڑھ کر فیصلے کرنے کا موقع نہیں دیا جائے گا تب تک سیاسی تلخیوں میں کمی لانا ممکن نہیں ہوگا۔ جہاں سب کی نظریں اس وقت مذاکرات کی کامیابی پر مرکوز ہیں‘ وہیں یہ سوال بھی پیشِ نظر ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں کیا ہو گا۔ سماجی انتشار اور معاشی انحطاط جو پہلے ہی خطرناک سطح پر ہے‘ یقینا اس میں مزید اضافہ ہوگا۔ سیاسی بے یقینی کی صورت میں معاشی روانی کو زک پہنچے گی جس کا براہِ راست اثر عام آدمی پر پڑے گا۔ آج پاکستان کی سیاسی قیادت کے سامنے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر اس سیاسی تناؤ اور حدت میں فوری کمی نہ آ سکی تو یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر تھمے گا؟ لہٰذا یہ معاملہ سیاسی قیادت اور اس کی بصیرت کیلئے بھی بڑا امتحان ہے کہ وہ اپنے مسائل کو مل بیٹھ کر حل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ جو اپنے معاملات خود حل نہ کر سکیں ملک و قوم کے مسائل کے حل کی امید ان سے کیونکر وابستہ کی جا سکتی ہے؟

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں