سندھ طاس معاہدہ اور آبی جارحیت
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ’’آبی انصاف اور موسمیاتی تنوع‘‘ کے عنوان منعقدہ خصوصی نشست نے سندھ طاس معاہدے کی سنگین صورتحال پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ عالمی ماہرین نے متنبہ کیا کہ بھارت کی جانب سے چھ دہائیوں پر محیط تاریخی آبی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے یا التوا میں ڈالنے کا فیصلہ جنوبی ایشیا کی آبی سلامتی کیلئے بہت بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ پانی کو سیاسی مقاصد کیلئے بطور ہتھیار استعمال کرنا محض ایک سفارتی تنازع نہیں بلکہ پاکستان کے کروڑوں عوام کے خلاف ایک جنگی اقدام ہے۔ عالمی ماہرین متفق ہیں کہ سندھ طاس معاہدے میں اسے معطل کرنے یا یکطرفہ اقدمات کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔

رواں سال 31 اگست کو عالمی ثالثی عدالت نے متفقہ طور پر اس معاہدے کی قانونی حیثیت اور فعالیت کو برقرار رکھنے کا فیصلہ دیا‘ مگر نئی دہلی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ مذکورہ نشست میں خبردار کیا گیا کہ دو جوہری طاقتوں کے درمیان یہ تنازع علاقائی امن کو تباہ کر سکتا ہے۔ لہٰذا اب عالمی برادری اورمعاہدے کے ضامن کے طور پر عالمی بینک کو آگے بڑھ کر عملی کردار ادا کرنا اور بھارت کو بین الاقوامی قوانین اور عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنے پر مجبور کرنا ہو گا کیونکہ سندھ طاس معاہدے کا تحفظ محض ایک آبی معاہدے کا نہیں‘ بلکہ خطے کے کروڑوں انسانوں کی بقا کا معاملہ ہے۔