اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

غذائی عدم تحفظ کی سنگین صورتحال

عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت کی پاکستان کے زرعی اور غذائی نظام کے حوالے سے ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اکثریتی آبادی غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے اور 60 فیصد سے زائد آبادی صحت بخش اور غذائیت سے بھرپور خوراک خریدنے کی مالی سکت کھو چکی ہے۔ ایک ایسا ملک جو بنیادی طور پر زرعی ہے‘ وہاں کی اکثریتی آبادی کا غذائی عدم تحفظ کا شکار ہونا حکومتی پالیسیوں اور ترجیحات پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس بحران کی جڑیں ہمارے زرعی ڈھانچے کی فرسودگی اور بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری میں بھی پیوست ہیں۔ عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ملک میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 40 فیصد بچے سٹنٹنگ یعنی غذائی قلت کے سبب جسمانی و ذہنی عدم نشوونما کا شکار ہیں۔

موسمیاتی تبدیلیاں‘ تباہ کن سیلاب‘ جدید بیجوں اور ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی اور استحصال وہ عوامل ہیں جنہوں نے کسانوں کو بدحال اور عام آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی کو خواب بنا دیا ہے۔ یہ رپورٹ اربابِ اختیار کیلئے ایک حد فاصل ہونی چاہیے اور اب روایتی اقدامات سے آگے بڑھ کر جامع اور مستقل زرعی اصلاحات کا آغاز کیا جانا چاہیے۔ جدید آبپاشی کے طریقوں اور بائیو ٹیکنالوجی کا فروغ‘ دالوں‘ پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار بڑھانے کیلئے سستے قرضے ناگزیر ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے اپنے غذائی اور زرعی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار نہ کیا تو اس کے اثرات صرف یہیں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خدشہ ہے کہ آنے والی نسلیں بھی جسمانی و ذہنی طور پر کمزور ہوں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں