اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مذاکرات کی ناکامی

 وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی مذاکراتی کمیٹی نے خلوصِ نیت سے مذاکرات کئے‘ بہت اچھا معاہدہ تیار ہوا مگر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کر دیے۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن مذاکراتی کمیٹی کے اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں‘ بہت اچھا معاہدہ تیار ہوا تھا‘ صدرِ مملکت کو دکھانے کیلئے بھی گیا‘ وزیراعظم کو بھی تمام صورتحال سے آگاہ کیا‘ ایک دو چیزوں پر اختلاف تھا لیکن 99 فیصد چیزوں پر اتفاق ہو چکا تھا لیکن بدقسمتی سے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے مذاکرات سبوتاژ کیے۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم کی رکن پیپلز پارٹی کی رہنما سینیٹر شیری رحمان کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے تک تقریباً تمام معاملات طے ہو چکے تھے‘ ساڑھے آٹھ کے بعد پشاور حکومت نے نئی شرائط رکھنا شروع کر دیں۔ بقول ان کے‘ سیاسی اعتماد اور استحکام قائم کرنے کا اہم موقع ضائع ہوگیا‘ 25 سالہ پارلیمانی زندگی میں ایسا موقع ضائع ہوتے نہیں دیکھا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان یہ مذاکراتی عمل طویل مدت کے بعد مگر نہایت حساس ماحول میں شروع ہوا تھا۔

اگر یہ مذاکراتی عمل کامیاب ہونے کی خوشخبری ملتی تو ملکِ عزیز کیلئے یہ سیاسی پیشرفت غیر معمولی ثابت ہو سکتی تھی۔ ایسے وقت میں جب ملک میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے خدشات طاری تھے حکومت اور سیاسی قیادت میں نتیجہ خیز بات چیت اور تنازعات کے حل کی صورت سیاسی قیادت پر عوامی اعتماد میں اضافے کا سبب بنتی اور ملک کیلئے بے یقینی کی فضا صاف ہوتی۔ مگر اسے بدقسمتی ہی کہا جا سکتا ہے کہ ایسی کوئی خوشخبری اسلام آباد کی اس بیٹھک سے برآمد نہیں ہو سکی۔ اس سلسلے میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی اطلاعات مایوس کن ہیں۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیے کہ سیاست میں احتجاج ہی سب کچھ نہیں۔ سیاسی جماعتیں ہنگامہ آرائی سے کچھ حاصل نہیں کر سکتیں۔ جو ملتا ہے وہ مفاہمت‘ ہم آہنگی اور پُرامن جمہوری راستوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کسی جماعت کی سٹریٹ پاور یا قوتِ انتشار کی وجہ سے کسی خاص وقت میں حکومتیں یا ادارے مصلحتاً کمپرومائز کرنے اور پیچھے ہٹنے پر تیار ہو جائیں مگر یہ پسپائی مستقل اور پائیدار نہیں ہوتی۔

اس کا ردعمل بہت شدید اور اس کے نتائج تکلیف دہ ہوتے ہیں۔ اس لیے کم از کم سیاسی جماعتوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ بات چیت کے امکانات کو لات مار کر احتجاج اور دھونس کا راستہ اختیار کر لیں۔ سیاسی دانش اسی کا نام ہے کہ امکانات کے کمزور دھاگے کو بھی ٹوٹنے نہ دیا جائے۔ ایک فریق اسے کھینچتا ہے تو دوسرا ڈھیل پیدا کرے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس مذاکراتی عمل کے انجام کی جو کہانی بیان کی‘ تشویشناک ہے اور بارِ الزام خیبر پختونخوا حکومت پر آتا ہے۔ صوبائی حکومت اس مذاکراتی عمل کی جانب کسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے صوبے کے جنوبی اضلاع سے اسی لانگ مارچ پر بضد نظر آ رہی ہے جس کو روکنے کیلئے سیاسی بات چیت کا ڈول ڈالا گیا تھا۔ اس عمل میں خود پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر کی تگ و دو سے انکار ممکن نہیں۔ اگر انہوں نے حالیہ کچھ دنوں میں مذاکراتی عزم نہ دکھایا ہوتا تو ممکن نہیں تھا کہ اس بیٹھک کا اہتمام ہو پاتا۔

مگر جیسا کہ مذاکراتی کمیٹی کے حکومتی اراکین اور غیر جانبدار حلقوں کا کہنا ہے‘ خیبر پختونخوا کے نوجوان وزیراعلیٰ سیاسی تحمل کا مظاہرہ نہیں کر پائے۔ سیاستدان لمبی دوڑ کا گھوڑا ہوتا ہے مگر مسٹر آفریدی کی سوجھ بوجھ نے یہ ثابت نہیں کیا۔ اس مذاکراتی عمل کی ناکامی تکلیف دہ ہے مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں جانب کی سیاسی قیادت اس رکاوٹ کو عبور کر نے کی کوششیں ترک نہ کرے۔ اس ناکامی کو ایک کوشش کی ناکامی سمجھ کر کے مذاکراتی عزم کو برقرار رکھتے ہوئے بات چیت کو ازسر نو شروع کیا جائے‘ کیونکہ سیاسی مفاہمت کا کوئی متبادل نہیں اور مکالمہ ہی اس کا واحد راستہ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں