سوشل میڈیا جنون
مظفر گڑھ میں پانچ نوجوانوں کا مبینہ طور پر سوشل میڈیا رِیل بناتے ہوئے دریائے چناب میں ڈوب کر جاں بحق ہونے کا واقعہ ہمارے معاشرے میں سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کے بڑھتے ہوئے جنون کا عکاس ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ ڈوبنے والے نوجوانوں میں سے کوئی بھی تیراکی نہیں جانتا تھا۔ سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنے کی خواہش بعض نوجوانوں کو ایسے خطرات مول لینے پر آمادہ کر تی ہے جنکے نتائج جان لیوا ثابت ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی نوجوان ریلوے ٹریک پر وڈیو بناتے ہوئے ٹرین کی زد میں آ جاتا ہے‘ کبھی اسلحے کیساتھ وڈیو بنانے کی کوشش اچانک فائرنگ کا سبب بن جاتی ہے اور کبھی تیز رفتار گاڑی چلاتے ہوئے وڈیو ریکارڈ کرنے کا شوق جان لے لیتا ہے۔

سوشل میڈیا بذاتِ خود کوئی برائی نہیں‘ یہ اظہارِ خیال‘ تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار اور معلومات کے تبادلے کا مؤثر ذریعہ ہے لیکن جب لائکس‘ ویوز اور فالوورز کی تعداد کامیابی کا پیمانہ بن جائے تو صورتحال تشویشناک ہو جاتی ہے۔ نوجوانوں کو سمجھنا چاہیے کہ چند لمحوں کی شہرت کیلئے جان خطرے میں ڈالنا دانشمندی نہیں۔ جہاں نوجوانوں کو سوشل میڈیا رِیلز کے بخار سے نکلنے کی ضرورت ہے وہیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی خطرناک حرکات پر مشتمل مواد کی تشہیر روکنے اور صارفین کو ایسے مواد کے ممکنہ نتائج سے آگاہ کرنے کیلئے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ والدین کو بھی بچوں کی آن لائن سرگرمیوں سے باخبر رہنے کیساتھ ان میں ذمہ داری اور خود احتسابی کا شعور بھی پیدا کرنا ہو گا ۔