اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گورنر راج، چیلنجز

خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت پشاور میں ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشتگردی کے خاتمے‘ صوبے میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھنے اور پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کو جدید وسائل فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ خیبر پختونخوا دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے اور صوبے کو دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے مضبوط اور مربوط پالیسی کی ضرورت ہے جو دہشتگردی کا پائیدار خاتمہ یقینی بنا سکے۔ تاہم یہ حقیقت بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ صوبے میں سکیورٹی مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلئے سیاسی محاذ آرائی کی سوچ سے بلند ہونا ہو گا۔ ماضی میں مرکز اور صوبے کے مابین جس قسم کے سیاسی تناؤ کی فضا دیکھی گئی‘ اس نے ریاست کے ستونوں کو کمزور اور دہشتگرد عناصر کو کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا اور یہی صورتحال صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا سبب بنی۔ تاہم اس عبوری بندوبست میں صوبائی انتظامیہ اگر امن وامان قائم کرنے اور دہشتگردی سے نمٹنے کے بنیادی مقصد کے بجائے سیاسی حساب برابر کرنے میں مصروف ہو گئی تو وہ بنیادی کام پایہ تکمیل کو پہنچنے سے رہ جائے گا جس کیلئے وفاقی حکومت کو ایمرجنسی کی شقوں کا صوبے میں نفاذ کرنا پڑا۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز وفاق کی جانب سے یہ پیش کیا گیا کہ صوبائی حکومت انسدادِ دہشتگردی کے معاملات اور امن وامان کے قیام میں عدم توجہ کا مظاہرہ کر رہی تھی اور سکیورٹی اداروں سے تعاون نہیں کر رہی تھی۔ اب جبکہ صوبے کے جملہ انتظامی اختیارات وفاق کے نامزد کردہ نمائندوں کے پاس آ چکے ہیں تو وفاقی حکومت کو اپنی تمام تر توجہ امن وامان کی بحالی پر مرکوز کرنی چاہیے۔ ملک میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کا یہ پہلا واقعہ نہیں‘ ماضی میں متعدد مرتبہ اس آپشن کو بروئے کار لایا جا چکا ہے۔ اکثر بدامنی اور امنِ عامہ کے مسائل پر قابو پانے کی صوبائی حکومتی کی ناقص صلاحیت کو اس بندوبست کا جواز قرار دیا گیا‘ تاہم ماضی میں کسی صوبے میں گورنر راج یا ایمرجنسی جیسے غیر معمولی اقدام سے پائیدار اور متوقع نتائج برآمد نہیں ہو سکے۔ ماضی کے ایسے تمام سیاسی و انتظامی تجربات عارضی ثابت ہوئے بلکہ انہوں نے مقامی سطح پر احساسِ محرومی اور سیاسی بے چینی میں اضافہ کیا۔ اگر ملک کی سیاسی قیادت اس بار بھی پرانی ڈگر پر چلتی رہی تو نتائج ماضی سے مختلف نہیں ہوں گے۔

اس لیے قیادت کو ماضی کے تجربات سے سیکھنا ہو گا۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ صرف طاقت یا حکمت عملی کے زور پر نہیں جیتی جا سکتی‘ اس کیلئے مقامی آبادی کا اعتماد‘ صوبائی سٹیک ہولڈرز کی شمولیت اور مضبوط سیاسی وسماجی بیانیے کی ضرورت ہوتی ہے۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں فیصلہ سازی میں مقامی قیادت‘ قبائلی عمائدین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کو بھی شریک کرے۔ قومی سلامتی قومی یکجہتی سے منسلک ہوتی ہے اور قومی یکجہتی کے حصول کیلئے ضروری ہے کہ گورنر راج کی توجہ‘ وسائل اور صلاحیتیں سکیورٹی صورتحال کی بہتری اور قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی استعدادِ کار بڑھانے پر مرکوز رہیں۔ صوبے کے عوام خوف‘ معاشی مشکلات اور سیاسی بے یقینی کا شکار ہیں۔ ان حالات میں آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کو لاگو کر کے وفاق نے صوبہ خیبر پختونخوا میں بہت بھاری ذمہ داری اپنے سر لے لی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وفاقی حکومت اس ذمہ داری سے کس حد تک عہدہ برآ ہوتی ہے۔

ایسا نہ ہو کہ دہشتگردی کی روک تھام اور امن کی بحالی کے نام پر ہونے والا یہ فیصلہ اپنے پیچھے مزید احساسِ محرومی اور سیاسی بے یقینی چھوڑ جائے۔ خیبر پختونخوا ملکِ عزیز کا ایک حساس علاقہ ہے‘ اور اس علاقے نے شدت پسندی کے ہاتھوں بے پناہ دکھ اٹھائے ہیں۔ گورنر راج کا نظام اگر امن بحال کرنے میں کامیاب ہو جائے تو یہ اس نظام کی کامیابی کا سب سے بڑا اشتہار ہو گا۔ یہ وقت ہے کہ سیاسی نوک جھونک کے بجائے اصل کام پر توجہ دی جائے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں