اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی اور منافع خوری

مہنگائی پر قابو پانے کے حکومتی دعوؤں کے باوجود ملک میں مہنگائی اور ناجائز منافع خوری کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ملک میں انسدادِ گرانی کمیٹیوں‘ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور انفورسمنٹ فورسز کی موجودگی کے باوجود سرکاری نرخ ناموں کی خلاف ورزی جاری ہے۔ خبروں کے مطابق اتوار کے روز لاہور میں ٹماٹر سرکاری نرخ 130کے بجائے 150 روپے‘ پیاز 190 کے بجائے 220 روپے‘ سبز مرچ 120 کے بجائے 150 روپے اور پھول گوبھی 120 کے بجائے 150 روپے فی کلو فروخت ہوتی رہی۔ یہی صورتحال دیگر سبزیوں اور پھلوں کی بھی ہے‘ جبکہ گھی اور خوردنی تیل بھی 20روپے فی کلو تک مہنگے کر دیے گئے ہیں۔ یوں عام آدمی کیلئے خوراک کا حصول بتدریج مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ اگر سرکاری نرخ ناموں پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جا سکتا تو ان کے اجرا اور قیمتوں کی نگرانی کیلئے قائم نظام کی افادیت کیا ہے؟

حکومت کو تھوک منڈیوں سے پرچون دکانوں تک قیمتوں کی نگرانی‘ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی یقینی بنانا ہو گی۔ جرمانوں کے ساتھ خلاف ورزی کے اعادے پر سخت قانونی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ اگر متعلقہ حکام دیانتداری اور سنجیدگی سے اپنے فرائض انجام دیں تو ناجائز منافع خوری پر قابو پایا جا سکتا ہے اور عوام کو حقیقی ریلیف مل سکتا ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں