اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

خیبر پختونخوا، کوآرڈی نیشن عزم اور چیلنجز

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ وفاق کے ساتھ چلیں گے‘ سب صوبوں کے ساتھ ایک پیج پر ہوں گے۔ ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا‘ بالخصوص یہاں کی قبائلی پٹی اور جنوبی اضلاع متعدد سکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہیں‘ وفاق اور صوبے کے مابین ہم آہنگی کا یہ عزم مسائل کے حل کی طرف ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس وقت صوبے کو انتظامی مسائل کے حوالے سے وفاق اور متعلقہ اداروں کیساتھ کوآرڈی نیشن کو بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں قبائلی اضلاع کے فنڈز کا مسئلہ ہو‘ بجلی اور گیس چوری کا مسئلہ ہو یا آٹے کی ترسیل کا معاملہ‘ ماضی قریب میں ہر معاملے میں صوبائی انتظامیہ اور وفاق میں محاذ آرائی کا بہانہ بنا۔یوں وہ مسائل جو بہ آسانی مل بیٹھ کر حل ہو سکتے تھے‘ سیاسی آویزش اور کشیدگی کی نذر ہوگئے۔ اب صوبے کے نئے انتظامی ذمہ داران کو سیاسی مہلت اور وفاق سے مفاہمت کی فضا کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے کے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینی چاہیے اور روایتی سیاسی بیان بازی اور پوائنٹ سکورنگ کے بجائے عملی اقدامات پر زور دینا چاہیے۔ خیبر پختونخوا بالخصوص مغربی اضلاع کے عوام طویل عرصے سے انتظامی عدم توجہی کا خمیازہ بھگت رہے ہیں‘ اس لیے اس خطے کو نئے عزم کے ساتھ عملی تبدیلی کا پیش خیمہ بننا چاہیے۔

خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع اس وقت شدید پسماندگی کا شکار ہیں‘ جہاں تعلیم‘ صحت‘ انفراسٹرکچر اور روزگار کی اشد ضرورت ہے۔ 2018ء میں قبائلی علاقوں کے صوبے میں ضم ہونے کے بعد امید تھی کہ مرکزی دھارے میں شامل ہونے سے یہاں کے معیارِ زندگی میں بہتری آئے گی۔ قبائلی عوام سے دس سالہ ترقیاتی پلان کے تحت ایک ہزار ارب روپے کے فنڈز اور بنیادی اصلاحات کے وعدے بھی کیے گئے‘ مگروہ آج تک وفاق اور صوبے کے مابین فنڈز کی منتقلی کے تنازعات کے مابین جھول رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ترقی کا رخ قبائلی علاقوں کی طرف نہ موڑنا ہی ان علاقوں میں شدت پسندی‘ بد امنی اور دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ کسی معاشرے میں نوجوانوں کو تعلیم اور فنی تربیت‘ صحت کی بنیادی سہولتیں اور باوقار روزگار کے مواقع میسر نہیں ہوں گے تو وہ شرپسند عناصر کے پروپیگنڈا اور انتہا پسندی کا آسان ہدف بنتے رہیں گے۔ قبائلی اضلاع کی پائیدار بحالی کیلئے لازم ہے کہ انہیں ملکی ترقی کا مرکز بنایا جائے اوروہاں فوری ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے ثمرات عام آدمی تک پہنچتے نظر آئیں۔ اس سلسلے میں مقامی آبادی کا یہ مطالبہ زمینی حقائق سے مطابقت رکھتا ہے کہ ضم شدہ قبائلی اضلاع کیلئے ٹیکس رعایت‘ جو مرحلہ وار ختم کی جا رہی ہے‘ اس میں توسیع کی جانی چاہیے۔ قبائلی اضلاع اس وقت ایک عبوری دور سے گزر رہے ہیں جہاں دہائیوں کی جنگ اور بدامنی نے مقامی معیشت اور تجارتی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے‘ ایسے پسماندہ خطے پر یکلخت بھاری ٹیکسز نافذ کر دینا وہاں کی تباہ حال انڈسٹری اور معیشت کو مزید پیچھے دھکیلنے کے مترادف ہوگا۔

وفاق کو یہ بھی چاہیے کہ خیبر پختونخوا کو محض ایک سکیورٹی مسئلے کے طور پر نہیں بلکہ انتظامی بحران سے دوچار خطے کے طور پر دیکھے۔ یہاں سکیورٹی کے اکثر مسائل کی جڑ ہمیں انتظامی بحران میں ملتی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سکیورٹی اقدامات‘ ٹارگٹڈ آپریشنز سے امن و امان کی صورتحال میں بہتری آتی ہے اور گزشتہ دو دہائیوں کی تاریخ اس کی شاہد ہے‘ لیکن مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل سیاسی و جمہوری عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ عوام کے دلوں کو جیتنے اور انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے مکالمے‘ سماجی انصاف اور سیاسی اداروں کی مضبوطی کی ضرورت ہوتی ہے۔ وفاق اور صوبے کے مابین نئی کوآرڈی نیشن کا اصل امتحان اب یہی ہوگا کہ درپیش مسائل میں کتنی کمی آتی ہے اور عوام کو کتنا ریلیف ملتا ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں