دہشت گردی کا عفریت
گزشتہ روز بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران فتنہ الہندستان کے 12 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جبکہ گوادر میں کلیئرنس آپریشن کے دوران پاک فوج کے میجر وجاہت وحید جام شہادت نوش کر گئے۔ میجر وجاہت وحید کی قربانی اس جدوجہد کی یاد تازہ کرتی ہے جو ہمارے جوان ملک کی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کیلئے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دہشت گردی قومی سلامتی کیلئے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔ بالخصوص بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مسلسل واقعات پوری قوم کیلئے باعثِ تشویش ہیں۔ سکیورٹی امور سے متعلق ایک تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق ستمبر میں دہشت گردی کے 225 واقعات میں سکیورٹی فورسز اور عام شہریوں سمیت 259 افراد شہید ہوئے جبکہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں 280 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔

مجموعی طور پر 56 اضلاع دہشت گرد حملوں سے متاثر ہوئے اور تقریباً 59فیصد حملے بلوچستان میں ہوئے۔ ایک مہینے میں 280 دہشتگردوں کا خاتمہ سکیورٹی فورسز کی عملی کارکردگی کا بڑا ثبوت ہے‘ لیکن دوسری جانب حملوں کی تعداد‘ جغرافیائی پھیلاؤ اور جانی نقصان کے اعدادوشمار خطرے کی شدت اور اس کی گہرائی کو واضح کرتے ہیں۔ اس لیے دہشت گردی کے نیٹ ورکس‘ ان کے سہولت کاروں‘ مالی وسائل اور افرادی قوت کی فراہمی کے ذرائع کا مؤثر سدباب ناگزیر ہے۔ شہدا کی قربانیوں کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ پاکستان کودہشت گردی سے پاک کیا جائے۔