عدم برداشت کا رجحان
لاہور میں مبینہ طور پر راستہ نہ ملنے پر ایک شخص کا سکوٹی سوار لڑکی پر تشدد افسوسناک اور اور سماجی سطح پر عدم برداشت اور اخلاقی زوال کی مثال ہے۔ ابھی ملتان میں پندرہ سالہ بچے کے قتل کی لرزہ خیز واردات کو زیادہ دن نہیں ہوئے کہ اس تازہ واقعے نے معاشرے میں تشدد اور لاقانونیت کے بڑھتے رجحان کو اجاگر کر دیا ہے۔ملک بھر سے آئے روز معمولی تنازعات پر ہراسانی، تشدد اور قتل کی وارداتیں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ معمولی باتوں پر اس طرح کا سنگین ردِعمل سماجی سطح پر بڑھتی ہوئی گھٹن‘ معاشی پریشانیوں‘ ذہنی الجھنوںاور عدم برداشت کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ کیفیت بظاہر جن سماجی عوارض کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے وہ کسی بھی گروہِ انسانی کی اجتماعی نفسیات کو متاثر کیے بغیر نہیں رہتی؛چنانچہ ٹامک ٹوئیاں مارنے کے بجائے ان عوارض کی اصلاح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ معاشرے کو محفوظ اور پُرامن بنانے کیلئے قانون کی بالادستی‘ مؤثر احتساب اور اخلاقی اصلاح کی اہمیت میں دو رائے نہیں۔ایسے واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے اجتماعی وجود میں کون کون سے پہلو نازک ہیں‘ جن کی بہتری کیلئے کام ہونا چاہیے۔ بصورتِ دیگر عدم برداشت اور لاقانونیت کا بڑھتا سلسلہ ہمارے اجتماعی امن‘ شہری آزادیوں اور معاشرتی اقدار کو تہس نہس کر کے رکھ دے گا اور بطور سماج ہماری بقا کیلئے سنگین نوعیت کے خطرات پیدا ہو اجائیں گے۔