اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے خلاف عزم صمیم!

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھارتی سرپرستی میں سرگرم انتہا پسند عناصر کے خلاف کارروائیاں پوری شدت کے ساتھ جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دہشت گرد جہاں بھی موجود ہوں‘ انہیں بھرپور ضرب لگائی جائے گی۔ فیلڈ مارشل نے ان خیالات کا اظہار جمعہ کے روز پشاور میں کور ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقع پر کیا۔ خیبر پختونخوا ایک عرصے سے سرحد پار دہشت گردی کا شکار ہے‘ تاہم چند برس پہلے افواج پاکستان کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں قبائلی پٹی میں دہشت گردوں کی عملداری کا خاتمہ کر کے امن بحال کر دیا گیا تھا۔ افواجِ پاکستان کی یہ ایک مثالی کامیابی تھی کہ مختصر وقت میں عالمی دہشت گردی کے وسیع نیٹ ورکس کو ختم کرتے ہوئے قبائلی علاقوں میں ریاستی عملداری کو بحال کیا گیا۔ یہ جامع اور فیصلہ کن پیش رفت تھی جس کے اثرات کو پورے ملک میں محسوس کیا گیا‘ امن اور تحفظ کے احساس میں بہتری آئی اور پاکستان کی ایک پُرامن ملک کے طور پر شناخت بحال ہوئی۔

اس کے بعد ضروری تھا کہ سماجی سطح پر اقدامات کیے جاتے۔ روزگار کے بہتر مواقع‘ معاشی سرگرمیوں‘ لوگوں کو بااختیار بنانے کے اقدامات اور تعلیم وصحت کے شعبوں میں بہتری سے قبائلی سماج میں وہ مطلوب تبدیلیاں ممکن تھیں جو انتہا پسندی کے خاتمے میں مدد کرتیں۔ یہی مقصد قبائلی علاقوں کو صوبے میں ضم کرنے کا موجب بنا اور قبائلی اضلاع کیلئے کئی خصوصی اقدامات اور مالی وعدے بھی کیے گئے۔ قبائلی علاقوں کو قومی دھارے کیساتھ ملانے کی یہ بنیادیں درست اور مستحکم تھیں مگر وقت کیساتھ ان پر جو تعمیرات ہونا تھیں وہ کہیں نہیں ہو سکیں۔ نو تشکیل شدہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں میں سست روی‘ تعلیم‘ روزگار اور صحت کے منصوبوں میں کوتاہیاں اور ان علاقوں کو معاشی طور پر مستحکم کرنے کے خصوصی اقدامات خیال و خواب سے آگے نہ بڑھ سکے۔ دوسری جانب اگست 2021ء میں افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کا قیام اس علاقے میں انتہا پسندوں کی سوکھتی جڑوں کو تازہ کرنے کا سبب بنا۔

افغان طالبان نے آتے ہی نہ صرف افغان سرزمین پر چھپے ہوئے انتہا پسند گروہوں کیلئے سہولت کاری شروع کر دی بلکہ جن شدت پسندوں کو سابق افغان حکومتوں نے قید کیا ہوا تھا انہیں بھی رہا کر دیا۔ دہشت گردی کی سرگرمیوں کی بحالی کیلئے یہ اقدامات بہت بڑی سہولت ثابت ہوئے اور اس پر مستزاد افغانستان میں غیر ملکی افواج کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ اوردفاعی سازو سامان۔ اگست 2021ء کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر انہی حالات سے ابھری اور آنے والے برسوں میں خونریزی کے واقعات بڑھتے چلے گئے۔ اس دوران پاکستان کی جانب سے افغان عبوری حکومت کیساتھ بارہا ان مسائل کو اجاگر کیا گیا مگر طالبان کا رویہ ایک ذمہ دار حکومت کے بجائے دہشت گردانہ معاون کے طور پر سامنے آتا رہا۔ طالبان بھارت گٹھ جوڑ اور دہشت گردی کی تکون نے یہ ثابت کر دیا کہ افغان طالبان خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ ملکِ عزیز میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے محرکات سرحد پار ملنا اور دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں افغان شہریوں کا ملوث پایا جانا معمولی بات نہیں۔

اس صورتحال میں قومی سلامتی کے دفاع کیلئے بھر پور اقدامات کی ضرورت ہے‘ ایسے اقدامات جن میں سیاسی اور حکومتی حمایت ریاست کے دفاعی مقاصد اور عزائم کیساتھ ہو۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور دہشت گردی سے زیادہ متاثرہ بارہ اضلاع میں ایمر جنسی کا نفاذ اس کیلئے کفایت کرے گا۔ امید کی جاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں جو مقاصد ماضی میں حاصل نہیں ہو سکے‘ حکمت عملی اور اقدامات میں ان تبدیلیوں کی بدولت فیصلہ کن تبدیلی سے گزریں گے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں