اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

بروقت ، خوش آئند

وزیراعظم شہباز شریف نے 2027ء کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت 4500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ ہے۔ نئی مجوزہ قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں ایک ہزار روپے زیادہ ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں گندم کی بوائی کا سیزن شروع ہے لیکن کاشتکار بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت‘ کھاد‘ بیج‘ زرعی ادویات اور ڈیزل و بجلی کے مسلسل بڑھتے نرخوں کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ حکومت کی جانب سے مجوزہ قیمتوں کے اعلان کے بعد گندم کے کاشتکار کی حوصلہ افزائی ہو گی اور وہ زیادہ سے زیادہ رقبے پر گندم کاشت کرنے کی طرف راغب ہو گا۔حالیہ دنوں ملک میں گندم کی مارکیٹ قیمتوں میں اضافہ اور آٹے کے حوالے سے تحفظات کی بنیاد حالیہ برسوں گندم کی خریداری میں سست روی اور غیر سنجیدگی ہے۔

دو سال قبل پنجاب حکومت نے 3900 روپے فی من گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کیا تھا مگر جب فصل مارکیٹ میں آئی تو حکومت ذخائر میں پرانی گندم موجود ہونے کے بہانے خریداری سے پیچھے ہٹ گئی اور کسانوں کو مارکیٹ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اگر حکومت گندم کی کٹائی کے بعد خریداری سے گریز کرے تو کسان اپنی فصل آڑھتیوں کو اونے پونے فروخت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا گندم کی مجوزہ قیمت کا بروقت اعلان اور اس میں مناسب اضافہ خوش آئند اقدام ہے لیکن اس کے مؤثر ہونے کا فیصلہ عملی نتائج سے ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں