ایل پی جی، مستقل ریگولیٹری میکانزم
ملک میں گیس کے شدید بحران کے دوران عمان سے سات ہزار میٹرک ٹن سے زائد ایل پی جی کے دو جہازوں کی آمد یقینا ایک مثبت پیش رفت ہے‘ جس سے گیس کی دستیابی میں بہتری اور قیمتوں میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ حالیہ دنوں میں پاک ایران سرحد کی عارضی بندش کے باعث مارکیٹ میں جو صورتحال دیکھنے کو ملی وہ ہمارے سپلائی چین اور ریگولیٹری نظام کی کمزوریوں کو عیاں کرنے کیلئے کافی ہے۔ مصنوعی قلت کا فائدہ اٹھا کر منافع خوروں نے ایل پی جی کی قیمتوں کو سرکاری قیمت یعنی 280 روپے فی کلو سے دو گنا سے بھی زیادہ بڑھا کر 600 روپے فی کلو تک پہنچا دیا۔ وقت آ گیا ہے کہ اب اس حقیقت کو تسلیم کیا جائے کہ ایل پی جی کوئی ہنگامی بندوبست نہیں رہی‘ بلکہ قدرتی گیس کی مسلسل گرتی ہوئی پیداوار کے باعث یہ ایک مستقل اور بنیادی ضرورت بن چکی ہے لہٰذا اسے مارکیٹ کے اتار چڑھائو پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔

حکومت کو فوری طور پر ایک مربوط‘ فعال اور طویل مدتی ریگولیٹری میکانزم تشکیل دینا چاہیے جس کے تحت ایل پی جی کی درآمد‘ ذخیرہ اندوزی اور مقامی سطح پر تقسیم کو منظم کیا جائے۔ اس میکانزم کا بنیادی مقصد یہ ہو کہ ایک طرف شہریوں کو سرکاری نرخوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور دوسری طرف ری فلنگ سٹیشنز پر سیفٹی اقدامات کا نفاذ اور قیمتوں کی چیکنگ کو سہل بنایا جائے۔