فری لانس معیشت
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران پاکستانی فری لانسرز نے تقریباً 55کروڑ ڈالر کی سروسز فراہم کیں‘ جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں 37کروڑ73لاکھ ڈالر کی سروسز فراہم کی تھیں۔ یہ اضافہ معیشت اور روزگار کے حوالے سے بڑی پیشرفت ہے۔ فری لانسرز عالمی سطح پر سافٹ ویئر و ویب ڈویلپمنٹ‘ موبائل ایپس‘ گرافک ڈیزائننگ‘ وڈیو ایڈیٹنگ‘ مواد نویسی اور ورچوئل اسسٹنٹ سمیت متعدد خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ فری لانسنگ اربوں ڈالر کی عالمی صنعت بن چکی ہے اور ترقی پذیر ممالک کے ہنرمند اور باصلاحیت افراد کے لیے اس میں بے پناہ مواقع ہیں۔ پاکستانی نوجوان بھی اس صنعت میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور پاکستان فری لانسنگ ممالک میں سرفہرست ممالک میں آتا ہے۔

اس سے جہاں ملک کو زرمبادلہ میں آمدنی حاصل ہو رہی ہے وہیں نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ فری لانسنگ کے شعبے میں ساکھ کو بہتر بنانے اور ملکی آمدنی کو بڑھانے کیلئے جہاں آئی ٹی کی جدید مہارتوں کی تربیت میں اضافہ ضروری ہے وہیں انٹر نیٹ کی رسائی کو بھی بہتر بنانا ہو گا۔ سست انٹرنیٹ اور آئے روز کی خرابیاں اور بندشیں فری لانسنگ معیشت کیلئے بڑی رکاوٹ ہیں۔ حکومت کو یہ رکاوٹی دور کرنے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے۔