علاقائی تجارت اور جیو پولیٹکل چیلنجز
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی سے متعلق جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق نو علاقائی ممالک کے ساتھ پاکستان کا تجارتی خسارہ 26.6 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ارب 97 کروڑ ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ گزشتہ سال کی اسی مدت (جولائی تا ستمبر) میں یہ خسارہ 3 ارب 93 کروڑ ڈالر تھا۔ محض ایک سال کے عرصے میں تجارتی توازن کا اس حد تک بگڑ جانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ علاقائی منڈیوں میں پاکستان کی گرفت کمزور ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کی سب سے بڑی وجہ ملکی برآمدات میں ہونے والی کمی ہے۔ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں علاقائی ممالک کو برآمدات 944 ملین ڈالر رہیں جو گزشتہ سال ایک ارب دس لاکھ ڈالر تھیں۔ ایسے وقت میں جب ملک کو زرِمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے کا چیلنج درپیش ہے‘ علاقائی منڈیوں سے حاصل ہونے والے ریونیو میں کمی معیشت کیلئے ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ اگر اس کے محرکات پر غور کیا جائے تو متعدد وجوہات سامنے آتی ہیں۔ علاقائی تجارت میں گراوٹ کی ایک بڑی وجہ جیو پولیٹکل حالات ہیں۔ پاکستان کے اپنے پڑوسیوں کیساتھ تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں‘ جس کا براہِ راست اثر ملکی تجارت پر بھی پڑ رہا ہے۔

افغانستان کے ساتھ سرحدوں کی بندش کے باعث افغانستان کو ہونے والی برآمدات میں 88 فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ تجارتی روابط طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہیں۔ بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی تجارتی حجم گراوٹ کا شکار ہے۔ اس وقت جنوبی ایشیا کی علاقائی تنظیم سارک اور آزادانہ تجارت کا معاہدہ ’سافٹا‘ علاقائی ممالک کی باہمی چپقلش کی وجہ سے مکمل طور پر غیر فعال ہیں جس کے باعث یہ پورا خطہ دنیا کے سب سے کم مربوط خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں بلاکس کی سیاست اور علاقائی کشیدگی کے باوجود تمام ممالک اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ چین اور امریکہ یا چین اور بھارت کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں شدید سیاسی و نظریاتی اختلافات کے باوجود سالانہ سینکڑوں ارب ڈالر کی باہمی تجارت ہوتی ہے۔ پاکستان کو بھی اپنی خارجہ اور معاشی پالیسیوں کو جیو اکنامکس میں ڈھالنا چاہیے۔ ہم تو اب تک اپنے دوست ملکوں کے ساتھ بھی تجارت کو صحیح طرح فروغ نہیں دے سکے ہیں۔ مثلاً چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے لیکن باہمی تجارت کا توازن یکطرفہ طور پر چین کے حق میں جھکا ہوا ہے۔ پہلی سہ ماہی کے دوران چین کیساتھ تجارتی خسارے میں 858 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔
اگرچہ چین سے خام مال اور صنعتی مشینری کی درآمد ملکی مینوفیکچرنگ کیلئے ضروری سمجھی جاتی ہے لیکن پاکستانی مصنوعات کا چین کی وسیع مارکیٹ میں جگہ نہ بنا پانا ہماری برآمدی پالیسیوں اور مصنوعات کے معیار پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ اس سلسلے میں کثیر جہتی حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔ پاکستانی مصنوعات بالخصوص زراعت‘ ٹیکسٹائل اور حلال فوڈز تھوڑی سے تگ ودو سے چین کی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنا سکتی ہیں۔ اسی طرح افغانستان اور وسط ایشیائی ممالک کیساتھ تجارتی راستوں کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھا جائے اور بارڈر مینجمنٹ کو جدید اور ڈیجیٹل خطوط پر استوار کیا جائے تو پاکستان اپنی جغرافیائی لوکیشن کے عین مطابق‘ وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا میں ایک پُل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ آج سمندری راستوں کے غیر محفوظ ہونے کے خدشات زمینی تجارت اور ریلوے نیٹ ورکس سے جڑے باہمی روابط کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کر رہے ہیں۔ پاکستان کا معاشی مستقبل بھی علاقائی روابط سے جڑا ہے۔
حکومت کو علاقائی ممالک کیساتھ بڑھتے تجارتی خسارے کو ایک تنبیہ سمجھنا چاہیے اور جغرافیائی تنازعات کے معاشی مضمرات کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی طور پاکستان اپنے محل وقوع کا حقیقی معاشی فائدہ اٹھا کر ایک مستحکم معیشت کے روپ میں ابھر سکتا ہے۔