فضائی آلودگی
حکومت پنجاب کے آفیشل اے کیو آئی ڈیش بورڈ کے مطابق28اکتوبر کی صبح لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 401 پوائنٹس تھا۔ فضائی آلودگی پر قابو پانے کے دعوؤں کے باوجود لاہور سمیت بڑے شہروں میں ہوا کے معیار میں نمایاں بہتری دکھائی نہیں دیتی۔ صوبائی محکمہ ماحولیات کی جانب سے گزشتہ ہفتے سے لاہور میں اینٹی سموگ گنز کو دوبارہ فعال کیا گیا ہے‘ مگر ان مشینوں کے ذریعے محض کچھ دیر کے لیے ہی ہوا میں گرد و غبار کم کیا جا سکتا ہے۔ جب تک آلودگی کے اصل اسباب پر قابو نہیں پایا جاتا‘ فضا مستقل طور پر صاف نہیں ہو سکتی۔ شہروں میں فضائی آلودگی کی سب سے بڑی وجہ بے ہنگم ٹریفک ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق لاہور میں پھیلنے والی آلودگی کا تقریباً 83فیصد حصہ گاڑیوں کے دھویں سے پیدا ہوتا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل پر چلنے والی پرانی گاڑیاں‘ موٹر سائیکلیں اور رکشے فضا میں کاربن اور دیگر نقصان دہ ذرات خارج کرتے ہیں۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے فضائی آلودگی میں کمی اور ٹریفک کا بوجھ کم کرنے کے لیے شہر میں کچھ روٹس پر الیکٹرک بسیں چلائی گئی ہیں مگر اس کا دائرہ کار بڑھانے کی ضرورت ہے۔ لاہور سمیت ملک کے دیگر شہروں کو فضائی آلودگی سے پاک کرنے کے لیے جز وقتی کارروائیوں سے بات نہیں بنے گی۔ ضروری ہے کہ حکومت ایک دیرپا ماحولیاتی حکمتِ عملی اپنائے جس میں کلین انرجی‘ الیکٹرک ٹرانسپورٹ‘ شجرکاری اور منظم شہری منصوبہ بندی کو بنیادی ترجیح حاصل ہو۔