اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

ذہنی امراض

وفاقی وزارتِ صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں تین کروڑ 20 لاکھ (12.3فیصد) سے زائد افراد ذہنی امراض میں مبتلا ہیں۔ ذہنی امراض کی وجوہات میں موروثی‘ حیاتیاتی اور نفسیاتی عوامل شامل ہیں۔ نامساعد معاشی و سماجی حالات بھی ذہنی امراض کے خطرات میں نمایاں اضافے کا سبب ہیں۔بڑھتی ہوئی مہنگائی‘ سکڑتی آمدنی اور بے روزگاری میں اضافہ بہرکیف اپنے نفسیاتی اثرات چھوڑتا ہے اور یہ اثرات نہایت تشویشناک ہیں۔معاشی مسائل کیباعث گھریلو تنازعات بھی ذہنی مسائل لے کر آتے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے نفسیاتی علاج کی سہولیات بڑھانے کی ضرورت ہے۔

یہ تشویشناک صورتحال ہے کہ ملک بھر میں رجسٹرڈ ماہرینِ نفسیات کی تعداد صرف 1050 ہے یعنی 30 ہزار 514 مریضوں کیلئے ایک ماہر نفسیات‘ جبکہ مجموعی آبادی کے لحاظ سے دیکھا جائے تو تقریباً دو لاکھ 45 ہزار 400 افراد کیلئے ایک ماہرِ نفسیات دستیاب ہے۔ملک میں ذہنی امراض کی تشویشناک صورتحال کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ذہنی صحت کی سہولیات میں اضافہ کیا جائے اور عوام میں اس حوالے سے آگاہی پیدا کی جائے تا کہ ذہنی صحت کے مسائل کو دبانے یا رد کرنے کے بجائے اس کا مناسب علاج اور بحالی کی سرگرمیوں کا رجحان پیدا ہو سکے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں