مہنگی بجلی
ایک خبر کے مطابق پاور ڈویژن نے دسمبر سے فروری تک فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ میں دو سے تین گنا اضافے کا عندیہ دیا ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق سردیوں میں پن بجلی کی پیداوار کم ہونے اور مقامی گیس کی قلت کے باعث درآمدی ایندھن پر انحصار بڑھ جاتا ہے‘ جس سے مہنگی بجلی پیدا ہوتی ہے۔ درآمدی ایندھن کی مہنگائی اپنی جگہ مگر ملک عزیز میں بجلی مہنگی ہونے کی بنیادی وجوہات اسکے علاوہ ہیں۔ ہر سال آئی پی پیز کو بھاری کیپسٹی پیمنٹس ادا کی جاتی ہیں۔ وزیر توانائی کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25ء میں بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو کیپسٹی پیمنٹس کی مد میں 1669 ارب روپے ادا کیے گئے‘ جو مالی سال 2025-26ء میں بڑھ کر 1711 ارب روپے ہو گئے‘ جبکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے مالی سال 2027ء کیلئے ان ادائیگیوں کا تخمینہ 1914 ارب روپے لگایا ہے۔

اکنامک سروے 2026ء کے مطابق ملک میں بجلی کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 49 ہزار 651 میگاواٹ تک پہنچ چکی ہے جبکہ پیک سیزن میں بھی بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب 28ہزار میگا واٹ تک جاتی ہے۔ اسکے باوجود حکومت نے 2025ء میں چار آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کر لیے۔ حکومت کو عوام کو سستی بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے آئی پی پیز کے معاہدوں اور ان کی سخت شرائط کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا۔ کیپسٹی پیمنٹس کا ناقابلِ برداشت بوجھ ختم کیے بغیر سستی بجلی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔