ملکی معیشت اور چیلنجز
وزارتِ خزانہ کی ماہانہ آوٹ لک میں خلیجی تنازع‘ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے کو ملکی معیشت کیلئے بڑے خطرات قرار دیا گیا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا بحران عالمی معیشت کیلئے اب کوئی نئی بات نہیں ہے کہ جس کے اثرات کو سمجھنے میں دقت کا سامنا ہو۔ رواں سال کے شروع سے دنیا اس صورتحال کو بھگت رہی ہے۔ اس دوران سفارتی اور مصالحتی کوششوں کے کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ جب متحارب ملکوں میں ثالثی کی جانب پیش رفت کا امکان ظاہر ہوتا ہے تو توانائی کی منڈیوں میں قدرے استحکام نظر آنے لگتا ہے مگر یہ سلسلہ زیادہ دیر جاری نہیں رہ پاتا کہ کشیدگی میں اضافے کے ساتھ بے یقینی عود کرآتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کا خطہ ہمارے سمندر پار کارکنوں کیلئے روزگار کی سب سے اہم منزل بھی ہے۔ 17 لاکھ سے زائد پاکستانی خلیج کے چھ بڑے ممالک میں برسرِ روزگار ہیں۔ علاقائی کشیدگی کے اثرات ان ممالک میں جاری کاروباری اور تعمیراتی سرگرمیوں پر بھی پڑ رہے ہیں جس کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی منتقل ہوتے ہیں۔ اس صورتحال کے معاشی اثرات کو متبادل معاشی امکانات سے کم کرنے کی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسے شعبوں کی ترقی کیلئے حکومتی سطح پر آسانیاں پیدا کی جانی چاہئیں جن کے معاشی اثرات آزمودہ ہیں۔ اس سلسلے میں تعمیرات اور زراعت کا شعبہ قابلِ ذکر ہے۔

یہ شعبے معیشت کیلئے متحرک پہیوں کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تعمیرات کا شعبہ بیک وقت درجن بھر ذیلی شعبوں کیلئے روانی کا سبب بنتا ہے‘ روزگار کے امکانات پیدا ہوتے ہیں اور سرمایہ حرکت میں آتا ہے جبکہ زراعت ملکی آبادی کی خوراک کی ضروریات کو پورا کرنے کیساتھ ساتھ برآمدات میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ وزارتِ خزانہ کی ماہانہ آؤٹ لک ایسے وقت آئی ہے جب ورلڈ بینک کی کموڈٹی مارکیٹس آؤٹ لک 2026ء میں توانائی کی قیمتوں میں 32فیصد اور 2026-27ء میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں 18فیصد اضافے کا امکان ظاہر کر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث توانائی کی قیمتیں گزشتہ چار سال کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کا امکان ہے۔ دوسری جانب اناج کی ترسیل میں رکاوٹیں اور ال نینو موسمیاتی رجحان فصلوں کو متاثر کرنے کیساتھ ساتھ خوراک کی قیمتوں کو بھی عام لوگوں کی پہنچ سے دور کر سکتا ہے۔ تیل کے ذخائر میں کمی کے باعث دنیا کو رسد میں مزید رکاوٹوں اور عالمی منڈی میں اچانک پیدا ہونیوالے بحرانوں کا زیادہ خطرہ لاحق ہے جس کے پیشِ نظر ورلڈ بینک کی جانب سے توانائی کی قیمتوں میں 32 فیصد اضافے کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ غذائی اجناس کی قیمتوں میں 2026ء کے دوران تقریباً 10 فیصد اور 2027ء میں مزید سات فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس طرح دو سال کے دوران قیمتوں میں مجموعی طور پر 18 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
یہ پیش گوئیاں اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ عالمی منڈیوں میں اجناس کی رسد کو متاثر کرنیوالے تنازعات میں مزید کوئی بڑا اضافہ نہیں ہو گا۔ اگر مشرقِ وسطیٰ میں تنازع شدت اختیار کرتا ہے اور روس کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والا نقصان برقرار رہتا ہے تو توانائی کی قیمتیں توقعات سے کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔ اسی طرح اگر توانائی کی قیمتوں میں توقع سے زیادہ اضافہ ہوتا ہے‘ بحیرۂ اسود کے راستے اناج کی ترسیل پر حملے جاری رہتے ہیں اور ال نینو غیر معمولی شدت اختیار کر لیتا ہے تو یہ عوامل خوراک کے بڑے بحران کا سبب بن سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں مزید افراد انتہائی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں جیسا کہ 2010ء کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں دیکھا گیا تھا۔ ملکی معاشی تجزیے میں تمام تر خوش گمانیوں کے باوجود ان خدشات اور ممکنہ چیلنجز کو بھی مد نظر رکھنا ہو گا تا کہ معیشت کے فیصلے حقیقت پسندانہ اور حالات سے ہم آہنگ ہوں۔