اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

غذائی قلت

وفاقی وزارتِ صحت کے مطابق ملک میں پانچ سال سے کم عمر 40 فیصد سے زائد بچے سٹنٹنگ جبکہ تقریباً 18 فیصد بچے ویسٹنگ کا شکار ہیں۔ دوسری جانب نصف سے زائد نو عمر لڑکے اور لڑکیاں مختلف غذائی اجزا کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ غذائی قلت کے مسئلے کو خطرے کی گھنٹی سمجھا جائے اور اس کیلئے مناسب اقدامات کیے جائیں۔ بچپن میں غذائی کمی کا ازالہ عمر بھر نہیں ہوتا۔ مناسب غذا نہ ملنے سے بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہوتی ہے‘ سیکھنے اور سمجھنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے اور تعلیمی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی بچے عملی زندگی میں کم پیداواری صلاحیت کے باعث بہتر روزگار اور معاشی مواقع سے محروم رہ سکتے ہیں۔

نتیجتاً قومی معیشت کو ہنرمند اور صحت مند افرادی قوت کی کمی‘ صحت کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مجموعی پیداواری صلاحیت میں کمی کی صورت میں بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اس بحران کی بنیادی وجوہ میں غربت‘ بے روزگاری‘ مہنگائی اور معیاری خوراک تک محدود رسائی نمایاں ہیں۔ مہنگائی اور عوام کی گرتی ہوئی قوتِ خرید نے کم آمدن والے خاندانوں کیلئے بچوں کو متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنا مشکل بنا دیا ہے۔ اس صورتحال پر قابو پانے کیلئے عوام کی قوتِ خرید میں اضافہ اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں استحکام ناگزیر ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں