انتخابی اصلاحات اور اپوزیشن کا کردار
انتخابی عمل کی شفافیت اور انتخابات پر سیاسی جماعتوں کا اعتماد جمہوری نظام کے استحکام کیلئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔۔ اس پس منظر میں انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی کی تجویز اور سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اس سلسلے میں وزیراعظم‘ چیئرمین سینیٹ اور قائد حزب اختلاف کو خطوط ارسال کرنا خوش آئند ہے۔ انتخابات جمہوری نظام کی بنیاد ہیں۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں اور عوامی مینڈیٹ حکومتوں کو آئینی اور جمہوری جواز فراہم کرتا ہے۔ اگر انتخابی نتائج پر سیاسی اور عوامی اعتمادنہ ہو تو منتخب حکومتوں کی ساکھ متاثر ہوتی ہے ۔ اس لیے انتخابی تنازعات کو محض سیاسی بیانات اور الزام تراشی تک محدود رکھنے کے بجائے ان کے اسباب کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے اپوزیشن کو انتخابی اصلاحاتی کمیٹی میں شامل کرنے کا فیصلہ حزبِ اختلاف کو اپنا کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کر سکتا ہے۔ بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے انتخابی تحفظات اور شکایات کو پارلیمانی فورم پر پیش کرنا چاہیے۔

کسی سیاسی جماعت کیلئے اپنے مؤقف کے حق میں دلائل‘ شواہد اور تجاویز سامنے لانے کا مؤثر ذریعہ یہی ہے کہ متعلقہ آئینی اور پارلیمانی اداروں میں کردار ادا کرے۔ محض احتجاجی جلسوں اور سیاسی بیانات سے کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا جا سکتا۔ فعال اپوزیشن پارلیمان کے اندر اپنی موجودگی کو عوامی مسائل کے حل اور نظام کی بہتری کیلئے استعمال کرتی ہے۔ اگر اپوزیشن پارلیمانی کمیٹیوں سے دور رہے تو اس سے نہ صرف اس کی اپنی سیاسی شرکت محدود ہوتی ہے بلکہ اصلاحات کے عمل میں اس کے مؤقف کی مؤثر نمائندگی بھی نہیں ہو سکتی۔ تاہم حکومت کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ انتخابی اصلاحات محض کمیٹی قائم کرنے یا اپوزیشن کو دعوت دینے سے نہیں ہوں گی۔ کمیٹی کی کارروائی شفاف‘ مشاورت بامعنی اور نتائج قابلِ عمل ہونے چاہئیں۔ دھاندلی کے الزامات کا جائزہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر لیا جانا چاہیے اور جہاں بے ضابطگیوں کے قابلِ اعتماد شواہد ہوں وہاں قانون کے مطابق ذمہ داری کا تعین کیا جائے۔ اسی طرح انتخابی عمل کی نگرانی‘ نتائج کی تیاری اور اعلان‘ شکایات کے ازالے اور انتخابی اداروں کی خودمختاری سے متعلق امور پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ ملک کی سیاسی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ انتخابی تنازعات سیاسی عدم استحکام کی بڑی وجہ ہیں۔ تقریباً سبھی انتخابات کے بعد دھاندلی کے الزامات سیاسی محاذ آرائی کا سبب بنے جس نے جمہوری تسلسل اور قومی ترقی کو متاثر کیا۔
اس لیے سیاسی جماعتوں کو ذاتی سیاسی مفادات سے بلند ہو کر ایسے انتخابی نظام کی تشکیل میں حصہ لینا چاہیے جس کے نتائج پر عوام اور سیاسی جماعتوں کا اطمینان ہو۔ موجودہ صورتحال میں مجوزہ پارلیمانی کمیٹی حکومت اور اپوزیشن کیلئے اپنی سیاسی سنجیدگی ثابت کرنے کا بھی امتحان ہے۔ حکومت کو کھلے دل سے اختلافی آرا سننی چاہئیں جبکہ اپوزیشن کو پارلیمانی کردار کی طرف آنا چاہیے۔ جمہوریت میں اختلافِ رائے فطری ہے لیکن اختلاف کو مکالمے اور اصلاحات میں بدلنا ہی سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔ اس مجوزہ کمیٹی میں اپوزیشن کی شمولیت ممکن ہے حکومت اور حزبِ اختلاف میں پائی جانے والی سیاسی خلیج کو کم کرے‘ فریقین میں آرا کے اختلاف میں کمی آئے اور یہ پیش رفت پارلیمانی طرفین میں اتفاقِ رائے کا سبب بنے۔ پچھلے دو‘ ایک سال میں حکومت اور حزبِ اختلاف میں مذاکرات کے ڈول ڈالے گئے مگر باہمی عدم اعتماد کسی بڑے نتیجے کی راہ میں حائل رہا۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت اور حزبِ اختلاف اس جمود کو توڑنے کیلئے اقدامات کریں۔ دلوں کی الجھنیں کم کرنے کا اہتمام کریں کہ یہی راستہ مفاہمت اور سیاسی استحکام کی طرف لے کر جائے گا۔