اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

غربت کاپھیلاؤ

ورلڈ بینک کی رپورٹ ’پاورٹی اینڈ ایکویٹی بریف‘ کے مطابق مالی سال 2024-25ء میں پاکستان میں غربت کی شرح 29 فیصد تک پہنچ گئی‘ جو مالی سال 2018-19ء میں 22 فیصد تھی۔ یعنی چھ سال کے عرصے میں غربت کی شرح میں سات فیصد کا اضافہ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق ملک کے پانچ کروڑ 76 لاکھ افراد‘ یعنی تقریباً 23 فیصد آبادی کا یومیہ تین ڈالر سے کم آمدن پر گزارہ ہے۔ دیہی علاقوں میں غربت کی شرح 56.4 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 34.4 فیصد بتائی گئی ہے۔ یہ اعدادوشمار اس حقیقت کا واضح اظہار ہیں کہ غربت اب قومی سطح کا مسئلہ بن چکی ہے۔ غربت میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں بیروزگاری‘ مہنگائی‘ معاشی سست روی اور عوام کی کمزور معاشی سکت شامل ہے‘ تاہم حکومت کی جانب سے تخفیف غربت کیلئے مؤثر اقدامات کا نہ ہونا بھی بڑھتی ہوئی غربت کی ایک اہم وجہ ہے۔

غربت میں کمی کیلئے مہنگائی پر قابو پانے‘ کم آمدن والے خاندانوں کیلئے مؤثر سماجی تحفظ‘ کم از کم اجرت پر عملدرآمد‘ نوجوانوں کو فنی تربیت‘ بلاسود یا آسان شرائط پر کاروباری قرضے اور روزگار کی فراہمی جیسے اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو ایک جامع اور مستقل قومی حکمت عملی تشکیل دینا ہوگی جس کے تحت ہر سال غربت میں کمی کے اہداف مقرر کیے جائیں اور ان پر پیش رفت کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے۔ غربت کی شرح میں مسلسل اضافہ حکمرانوں کیلئے ایک واضح انتباہ ہے۔ اگر اس مسئلے کو قومی ترجیح نہ بنایا گیا تو اسکے معاشی اور سماجی اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں