ایچ آئی وی کا پھیلاؤ
وفاقی وزارتِ صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق جنوری 2025ء سے جون 2026ء تک ملک بھر میں 3900 بچے ایچ آئی وی پازیٹو رجسٹر ہوئے۔ ان میں سب سے زیادہ 1915 کیسز سندھ جبکہ 1765 پنجاب میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ بچوں میں بڑے پیمانے پر ایڈز کا پھیلاؤ انتہائی تشویشناک ہے۔ بچوں میں انفیکشن کی ممکنہ وجوہات میں آلودہ طبی آلات‘ استعمال شدہ سرنجوں کا دوبارہ استعمال اور غیرمحفوظ خون کی منتقلی شامل ہیں۔ 2019ء میں لاڑکانہ میں رپورٹ ہونیوالے 876ایڈز کیسوں میں 401 متاثرہ بچوں پر ہونیوالی سائنسی تحقیق میں غیرمحفوظ انجکشن اور طبی طریقوں کو انفیکشن کے ممکنہ ذرائع قرار دیا گیا تھا۔

گزشتہ برس کراچی کے ایک ہسپتال میں بھی طبی غفلت کے باعث تقریباً 80بچے ایڈز میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ حکومت اور محکمہ صحت کو چاہیے کہ تمام سرکاری و نجی ہسپتالوں‘ کلینکس اور زچگی مراکز میں انفیکشن کنٹرول کے ضوابط پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔ ہر مریض کیلئے نئی‘ جراثیم سے پاک سرنج اور سوئی کے استعمال کی پابندی پر بہرصورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ آخر کب تک معصوم بچے طبی غفلت اور انتظامی نااہلی کی قیمت اپنی زندگیوں سے ادا کرتے رہیں گے؟ بچوں کو محفوظ طبی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔