پاک افغان تعلقات اور دہشت گردی
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے افغان عبوری حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر انہوں نے پاکستان کیخلاف کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی اور حمایت بند نہ کی تو انہیں اس کی سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔ برطانوی نیوز ایجنسی کو انٹرویو میں ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان سے کسی رعایت کا طلبگار نہیں بلکہ صرف یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال ہونے سے روکے۔ پاکستان گزشتہ سوا پانچ برس سے کابل انتظامیہ کو ان کی سرزمین پر موجود کالعدم تنظیموں کیخلاف کارروائی کیلئے بارہا یاد دہانی کراتا آ رہا ہے‘ اس ضمن میں ہر ممکن سفارتی چینل استعمال کیا گیا‘ متعدد سماجی و سیاسی‘ انتظامی و حکومتی وفود بھی افغانستان گئے لیکن ان تمام تر سفارتی کوششوں کا جواب سرد مہری اور جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ پاکستان کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے اور افغان حکومت کو دو ٹوک انداز میں یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ اگر اب بھی اس نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے کی طرف قدم نہ بڑھایا تو اس کے سنگین مضمرات ہو سکتے ہیں۔ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردی ایک مسلمہ حقیقت ہے اور کابل کی عبوری حکومت اب اس سے انکار نہیں کر سکتی۔ دو روز قبل جی ٹونٹی کے وزرائے خارجہ اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ نے بھی اس حقیقت کو تسلیم کیا اور سرحد پار سے دہشت گردی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکہ وزیر خارجہ کے بیان کا گرمجوشی سے خیر مقدم کرتے ہوئے عالمی برادری سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرحد پار سے کام کرنے والے دہشت گردوں کیخلاف ٹھوس اور مربوط اقدامات کیلئے کابل پر دباؤ بڑھائے۔ یہ پیشرفت اس بات کا بھی اظہار ہے کہ پاکستان کا مؤقف اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جا رہا ہے کہ افغانستان میں موجود سکیورٹی خلا نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے امن کیلئے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیے جانے کے پیچھے مسلسل سفارتی کوششوں اور ان ڈوزیئرز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے یہ ثابت کیا کہ ریاستِ پاکستان کی سالمیت کیخلاف کام کرنے والی دہشت گرد تنظیمیں دراصل پاکستان کیخلاف کام کرنے والی بھارتی پراکسیز ہیں۔
نئی دہلی طویل عرصے سے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے ایک لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کرتا چلا آ رہا ہے۔ سابق افغان حکومتوں میں این ڈی ایس اور را کا گٹھ جوڑ ایک کھلی حقیقت تھا اور اب کابل میں حکومت کی تبدیلی کے باوجود‘ بھارت براستہ افغانستان اپنے اثر و رسوخ اور مالی معاونت کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ افغان عبوری انتظامیہ کی جانب سے ان دہشت گردوں کو جدید ترین ہتھیار‘ مالی وسائل اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ وہ پاکستان کو نقصان پہنچا سکیں۔ اب دفترِ خارجہ اور عسکری قیادت‘ دونوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ کابل کیساتھ کسی بھی بامعنی مذاکرات یا مستقبل کے ورکنگ ریلیشن شپ کیلئے لازم ہے کہ افغان حکام سب سے پہلے اپنی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں کیخلاف ٹھوس عملی کارروائیاں کریں۔ اب زبانی جمع خرچ اور کھوکھلے وعدے قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ جب تک سرحد پار سے دراندازی کو روکنے کیلئے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے تب تک دونوں ملکوں کے سیاسی و تجارتی تعلقات میں کسی بڑی پیشرفت کا امکان نہیں ہے۔
اگر کابل انتظامیہ اب بھی بھارتی پراکسیز اور دہشت گردوں کی پشت پناہی جاری رکھتی ہے تو پاکستان اپنے دفاع کیلئے تمام آپشنز استعمال کرنے کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ وہ دہشت گردی کے اس گلوبل خطرے کیخلاف دوٹوک حکمت عملی اپنائے کیونکہ یہ معاملہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ اس خطے اور پوری دنیا کی سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔