اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

گیس بحران اور حکومتی ذمہ داری

وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے عوام کو موسم سرما میں مناسب نرخوں پر گیس کی فراہمی یقینی بنانے کی امید دلائی ہے۔ سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی ملک میں گیس کی قلت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل گھریلو صارفین کے لیے تشویش کا باعث بننے لگے ہیں۔ اوگرا کی جانب سے ایل پی جی کی سرکاری قیمت تقریباً 294 روپے فی کلو مقرر کیے جانے کے باوجود مارکیٹ میں بعض مقامات پر یہی گیس 800 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی شکایات ہیں۔ملک میں قدرتی گیس کی پیداوار میں کمی اور سردیوں میں گیس کی طلب کے مقابلے میں محدود فراہمی اور لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کا انحصار ایل پی جی پر بڑھ جاتا ہے۔ وزیر پٹرولیم کے مطابق ملک میں ایل پی جی کی یومیہ کھپت چھ سے سات ہزار ٹن ہے‘ اس میں سے ڈھائی ہزار ٹن سے زائد مقامی سطح پر پیدا ہوتی ہے اور باقی ضروریات درآمدات سے پوری کی جاتی ہیں۔

درآمدی سپلائی میں مشکلات بھی موجودہ بحران کی ایک وجہ ہیں تاہم اس صورتحال سے ناجائز فائدہ اٹھانے والے عناصر کے خلاف کارروائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔حکومت اور متعلقہ حکام کو ایل پی جی پلانٹ مالکان‘ ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز کی پوری سپلائی چین کی نگرانی کرنی چاہیے تاکہ ذخیرہ اندوزی‘ مصنوعی قلت اور ناجائز منافع خوری کا خاتمہ ہو سکے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں‘ انہیں بنیادی ضرورت کے ایندھن کے حصول کے لیے اضافی قیمتیں ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں