سموگ کے اثرات
پنجاب کے بیشتر شہروں خاص طور پر لاہور میں ان دنوں شدید درجے کی فضائی آلودگی سے طبی امراض میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایک خبر کے مطابق پچھلے سات روز کے دوران لاہور کے چھ سرکاری ہسپتالوں میں فلو‘ کھانسی‘ نزلہ‘ گلے میں درد اور سینے کے انفیکشن کے 35 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ پنجاب اے کیو آئی ڈیش بورڈ کے مطابق گزشتہ چار روز کے دوران لاہور کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس 450 پوائنٹس سے تجاوز کرتا رہا جبکہ دو نومبر کی صبح یہ 500 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔ فضائی آلودگی کی یہ سطح انسانی صحت کیلئے انتہائی مضر ہے۔ باریک زہریلے ذرات نہ صرف پھیپھڑوں بلکہ خون کی نالیوں میں شامل ہو کر دل اور جسم کے دیگر اعضا کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر محکمہ صحت کو فوری طور پر متحرک ہونے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اب روایتی بیانات اور عارضی اقدامات سے آگے بڑھ کر فضائی آلودگی کے بنیادی اسباب کے خاتمے کیلئے جامع اور مستقل حکمت عملی اپنانا ہوگی۔اگر اب بھی فضائی آلودگی کو محض موسمی مسئلہ سمجھ کر نظرانداز کیا گیا تو اس کی قیمت نہ صرف موجودہ بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی اپنی صحت اور زندگی کے قیمتی سال گنوا کر ادا کرنا پڑے گی۔ وقت کا تقاضا ہے کہ لاہور کو دوبارہ سانس لینے کے قابل شہر بنانے کیلئے محض وعدے نہیں بلکہ ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔