اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

معاشی ترجیحات اور عملی اقدامات

وزیراعظم شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار‘ ہاؤسنگ اور زراعت کے فروغ کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ اسلام آباد میں قرضوں کی فراہمی میں سہولت سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے‘ برآمدات بڑھانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کی معیشت عبوری استحکام کے دور سے گزر رہی ہے اور میکرو اکنامک سطح پر افراطِ زر اور مالیاتی خسارے میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری جیسے معاشی اشاریے مستقبل کے حوالے سے پُرامیدی ظاہر کر رہے ہیں‘ مائیکرو اکنامک سطح پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جب تک میکرو معاشی استحکام کے ثمرات عام آدمی کی معیشت تک منتقل نہیں ہوتے‘ یہ استحکام پائیدار نہیں ہو سکتا۔اور عام آدمی کی معاشی بحالی کیلئے ان شعبوں پر توجہ دی جائے جو براہِ راست عوام کی زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ حکومت کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق زراعت کے شعبے میں مجموعی قرضوں کا حجم 1329 ارب روپے‘ ہاؤسنگ فنانس کا حجم 455 ارب روپے اور سمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزز سیکٹر میں قرضوں کی مالیت 1148ارب روپے ہو گئی ہے۔

بظاہریہ اعداد و شمار پُرامید نظر آتے ہیں لیکن زمینی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو ان شعبوں کو درپیش ساختی بحران اور پالیسیوں کا عدم تسلسل ان کی حقیقی صلاحیت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ زراعت کا شعبہ ملکی معیشت کیلئے ایک پوشیدہ سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے‘ اور یہ ایسا شعبہ ہے کہ اگر تھوڑی توجہ دی جائے اور درست سمت میں محنت کی جائے تو محض چھ ماہ میں ہی اس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے زرعی پالیسیاں طویل عرصے سے غیر مستحکم اور ایڈہاک بنیادوں پر استوار ہیں۔ محض زرعی قرضوں کے ہدف میں اضافے سے اس شعبے میں کوئی انقلابی تبدیلی برپا نہیں کی جا سکتی۔ اس کیلئے کسانوں کو سستی کھاد‘ بجلی اور جدید زرعی ٹیکنالوجی تک رسائی دینا ہوگی۔ جب تک کسان کو اس کی فصل کا جائز معاوضہ نہیں ملے گا اور مارکیٹ میں مڈل مین کا کردار ختم نہیں ہوگا‘ زرعی انقلاب کا خواب ادھورا رہے گا۔ اسی طرح تعمیرات اور ہاؤسنگ کے شعبے کو دیکھا جائے تو یہ ملکی معیشت میں انجن کا کردار ادا کرتا ہے اور اپنے ساتھ 40 سے زائد دیگر صنعتوں کو بھی متحرک کرتا ہے جس سے نہ صرف سرمائے کی گردش تیز ہوتی ہے بلکہ روزگار کے لاکھوں نئے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔

لیکن اس وقت حالت یہ ہے کہ یہ شعبہ پراپرٹی اور تعمیراتی شعبے پر عائد ٹیکسوں‘ پراپرٹی ٹرانسفر کے مسائل اور فائلرز‘ نان فائلرز کے جھمیلوں میں الجھا ہوا ہے۔ اگر ان مسائل کو حل کر دیا جائے یہ شعبہ بہت جلد ایک مضبوط معاشی ستون میں ڈھل سکتا ہے۔ اگر درمیانی و چھوٹی صنعتوں کی بات کریں تو یہ شعبہ جی ڈی پی میں 40 فیصد حصہ ڈالتا اور غیر زرعی افرادی قوت کے 78 فیصد سے زائد کو روزگار فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس وقت یہ شعبہ مہنگے ترین قرضوں‘ ان کے حصول کے پیچیدہ طریقہ کار‘ توانائی کی مہنگائی اور عدم دستیابی کے باعث بندش کا شکار ہے۔ جب تک صنعتوں کی پیداواری لاگت میں کمی نہیں لائی جاتی وہ خطے کے دیگر ممالک کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔

اعلیٰ حکومتی سطح پر مذکورہ ترجیحات کا ذکر صرف زبانی سطح تک محدود نہیں رہنا چاہیے‘ بلکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ملکی معیشت کے اشاریوں کے ساتھ اب نچلی سطح اور عام آدمی کے حالات میں بھی واضح تبدیلی نظر آئے۔ چھوٹے کسانوں اور ابھرتے ہوئے کاروباروں کو آسان شرائط پر قرضے دیے جائیں‘ بیوروکریٹک رکاوٹوں کو ختم کیا جائے اور پالیسیوں کا تسلسل یقینی بنایا جائے۔ مثبت مائیکرو معاشی اشاریے صرف اسی صورت میں پائیدار ہو سکتے ہیں جب ان کا فائدہ ملک کے غریب اور متوسط طبقے کو بھی پہنچے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں