اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ بدلتے ہوئے سکیورٹی خطرات اور نئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت‘ مقامی سطح پر صلاحیتوں کی ترقی اور آپریشنل تیاریوں پر غیر متزلزل توجہ ضروری ہے۔ ایس ایس جی ہیڈ کوارٹرز تربیلا کا دورہ کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے دفاعی صلاحیتوں کا جائزہ لیا اور مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنیوالے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس وقت پاکستان کو کثیر جہتی سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اگر ہم گزشتہ ربع صدی کا جائزہ لیں تو یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جتنی بھاری قیمت چکائی ہے‘ دنیا کی کسی دوسری قوم نے نہیں چکائی۔ نائن الیون کے بعد جب ملک میں دہشت گردی کا پھیلائو شروع ہوا تو کوئی شہر‘ کوئی علاقہ اس عفریت کے چنگل سے آزاد نہ تھا۔ تاہم پاک فوج نے راہِ راست‘ راہِ نجات‘ ضربِ عضب‘ ردالفساد اور اب عزمِ استحکام جیسے فوجی آپریشنز کے ذریعے ملک کا کھویا ہوا امن بحال کیا۔ اس جدوجہد میں فوج کے افسران اور جوانوں نے اپنے خون سے ملک کی مٹی سے وفا کا حق ادا کیا۔ یہ ان بے لوث قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ کبھی ملک کے طول و عرض میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے دھماکے اور بے گناہ شہریوں کی شہادتیں کنٹرول میں آئیں اور ریاست نے ان تمام علاقوں پر اپنی رِٹ بحال کی جن پر عسکریت پسندوں نے اپنا تسلط جما رکھا تھا۔ لیکن دہشت گردی ایک ایسا ناسور ہے جو اپنی شکلیں بدلتا رہتا ہے اور موجودہ دور میں اسکی ایک نئی شکل مغربی سرحدوں سے دراندازی کی صورت میں نمودار ہو رہی ہے۔

افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد یہ امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان کی مغربی سرحد پر امن قائم ہوگا اور دوحہ معاہدے کے تحت افغان سرزمین کو پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لیکن بدقسمتی سے زمینی حقائق اسکے برعکس ثابت ہوئے۔ افغانستان کی جانب سے پاکستان کو درپیش خطرات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کالعدم تنظیمیں اور دہشت گرد گروہ افغان سر زمین پر محفوظ پناہ گاہیں قائم کیے ہوئے ہیں جہاں سے وہ پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کرتے رہتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی کُرم میں دہشتگردوں نے دراندازی کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔ سکیورٹی فورسز کی جانب سے دہشتگردوں کو روکنے پر افغان طالبان نے بلا اشتعال فائرنگ کی تاہم سکیورٹی فورسز نے فوری جوابی ردعمل کے ذریعے افغان طالبان کی جارحیت کا فوری‘ مؤثر اور منہ توڑ جواب دیا۔ یہ واقعہ اس جارحانہ رویے کا تسلسل ہے جو سرحد پار سے مسلسل دکھایا جا رہا ہے۔ جب افغان فوج کی چوکیاں دہشتگردوں کو کور فائر فراہم کریں تو یہ دو ریاستوں کے درمیان سرحدی خودمختاری کی خلاف ورزی کا سنگین معاملہ بن جاتا ہے۔ پاکستان جو روزانہ کی بنیاد پر دہشتگردی کے خاتمے کیلئے اوسطاً 194 آپریشنز کر رہا ہے‘ اسکے تحمل اور خاموشی کو کمزوری سمجھنے کی غلطی نہ کی جائے۔

افغانستان کو بار بار یہ باور کرایا جا رہا ہے مگر محسوس ہوتا ہے کہ سطحی فکر و نظر کی حامل قیادت کوئی بڑا سبق سیکھے بغیر باز آنیوالی نہیں ہے۔ پاکستان اپنا عزم واضح کر چکا ہے کہ دفاعِ وطن پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کیا جائے گا اور کسی بھی حد تک جایا جائے گا۔ تاہم آج کا دشمن صرف سرحد کے پار موجود نہیں ہے بلکہ وہ سوشل میڈیا‘ پروپیگنڈا اور سائبر حملوں کے ذریعے بھی عوام اور ریاست بالخصوص دفاعی اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلئے آپریشنل تیاری میں نظریاتی اور نفسیاتی دفاع بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ عسکری دفاع۔ فوج فرنٹ لائن پر لڑ کر دشمن کا راستہ روک سکتی ہے لیکن اپنی صفوں کی صفائی ہمیں خود کرنی ہے۔ دہشتگردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک پوری قوم دفاعی اداروں کے شانہ بشانہ موجود نہ ہو۔ غیر متزلزل عزم اور فولادی تیاری ہی ملکی و سماجی استحکام کی ضمانت بن سکتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں