افغانستان سے پولیو کا خطرہ
افغانستان میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز پاکستان کی برسوں پر محیط انسدادِ پولیو کوششوں کیلئے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ پاکستان انسدادِ پولیو پروگرام کے مطابق ملک میں سیوریج کے 29 نمونوں میں افغانستان سے منتقل ہونیوالے پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ کراچی‘ جامشورو‘ راولپنڈی اور ملتان تک اس وائرس کی موجودگی سامنے آ چکی ہے۔ ضلع خیبر میں رپورٹ ہونیوالے تینوں پولیو کیسز کا جینیاتی تعلق بھی افغانستان سے ثابت ہوا ہے۔ حکام کے مطابق غیرقانونی راستوں سے پاکستان میں در اندازی کرنیوالے افغان باشندے اپنے ساتھ پولیو وائرس کی منتقلی کا باعث بنتے ہیں۔ پاکستان نے پولیو کے خاتمے کیلئے قومی سطح پر متعدد اقدامات کیے ہیں۔ سال بھر میں بار بار ویکسی نیشن مہمات کا انعقاد اور گھر گھر جا کر بچوں کو قطرے پلانا اسی عزم کا اظہار ہیں۔

تاہم دوسری طرف افغانستان میں گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین پلانے کا سلسلہ اکتوبر 2024ء سے معطل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میں رواں سال پولیو کے پچاس جبکہ پاکستان میں صرف نو کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت اور عالمی انسدادِ پولیو پروگرام کو افغانستان پر مؤثر پولیو ویکسی نیشن کیلئے دباؤ ڈالنا چاہیے جبکہ حکومت پاکستان کو پاک افغان سرحدی گزرگاہوں اور غیر قانونی راستوں کی مؤثر نگرانی اور متاثرہ علاقوں میں ہنگامی ویکسی نیشن یقینی بنانی چاہیے۔