اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

مہنگائی ،بجلی اور ایل پی جی

وفاقی ادارۂ شماریات کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 21 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں جبکہ ہفتہ وار مہنگائی کی شرح میں سالانہ بنیادوں پر 12.3فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ہفتے مہنگی ہونے والی اشیا میں ایل پی جی‘ بجلی‘ ٹماٹر‘ آلو‘ انڈے اور ڈبل روٹی سمیت دیگر اشیائے خورونوش شامل ہیں۔دوسری جانب نیپرا نے گزشتہ روز ستمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمت میں دو روپے 37پیسے فی یونٹ کا مزید اضافہ کر دیا ہے جبکہ ایل پی جی پر منافع خوری کا سلسلہ بھی رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ایل پی جی بحران اور غیر مصنفانہ قیمتوں کے پیشِ نظر اب حکومت نے ایل پی جی کی نیلامی کا نیا طریقہ کار وضع کیا ہے جس کے مطابق مقامی ایل پی جی پیدا کرنے والے ادارے اپنی کل پیداوار کا 10 فیصد سرکاری مارکیٹنگ کمپنیوں کے لیے مختص کریں گے۔

 جبکہ باقی 90 فیصد مقامی پیداوار میڈیا کی موجودگی میں نیلامی کے ذریعے فروخت کی جائے گی‘ اورنیلامی میں ہر اہل کمپنی کو یومیہ زیادہ سے زیادہ 20 میٹرک ٹن ایل پی جی حاصل کرنے کی اجازت ہوگی تاکہ تمام خریداروں کو مساوی مواقع مل سکیں۔ ماضی میں بھی توانائی کے بحران پر قابو پانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے متعدد اقدامات اور منصوبوں کا اعلان کیا جاتا رہا ہے لیکن ان کے نتائج ہمیشہ توقعات کے مطابق نہیں نکلے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نیلامی کا یہ نیا نظام محض ایک انتظامی تبدیلی ثابت ہوتا ہے یا واقعی ایل پی جی کی دستیابی اور قیمتوں میں استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں