اداریہ
WhatsApp: 0344 4450229

تجارتی خسارے کی دلدل

رواں مالی سال کے پہلے چار ماہ کے دوران ملک کا تجارتی خسارہ تقریباً 16فیصد اضافے کیساتھ 14.63 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 12.61 ارب ڈالر تھا۔ اس دوران 25.96 ارب ڈالر کی درآمدات کی گئیں جبکہ برآمدات کا حجم 11.34 ارب ڈالر تک پہنچ سکا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کے دوران درآمدات کا تخمینہ تقریباً 71 ارب ڈالر ہے اور برآمدات 32.5 سے 33 ارب ڈالر رہنے کا امکان ہے۔ اگرچہ درآمدات میں اضافہ کسی حد تک ملکی معاشی سرگرمیوں کی عکاسی کر سکتا ہے تاہم برآمدات سے دوگنا درآمدات اور تجارت میں بڑھتا خسارہ کرنٹ اکاؤنٹ اور زرمبادلہ کے ذخائر پر دوبھر ہے۔ حکومتی سطح پر 2029-30ء تک برآمدات کو 60 ارب ڈالر تک لے جانے کا عزم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ معاشی ڈھانچے‘ پالیسیوں اور صنعتی حالات میں اگلے چار برس میں برآمدات میں دوگنا اضافہ ممکن ہے؟ ملک عزیز کی پیداواری صلاحیتوں اور وسائل کو دیکھا جائے تو 60ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف ناقابلِ حصول نہیں۔ ہمارے ہاں زرعی پیداوار‘ ٹیکسٹائل‘ کھیلوں کے سامان‘ سرجیکل آلات‘ معدنیات‘ آئی ٹی اور دیگر شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں‘ لیکن مسئلہ وسائل کی دستیابی سے زیادہ ان کے مؤثر استعمال‘ جدید ٹیکنالوجی کے فقدان اور مستقل صنعتی پالیسی نہ ہونے کا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو برآمدات میں برائے نام اضافہ ہوا۔ مالی سال 2021ء میں برآمدات 25.304 ارب ڈالر تھیں جو 2022ء میں 31.782 ارب ڈالر تک پہنچیں اور مالی سال 2025ء میں 32.040 ارب ڈالر رہیں۔ گویا پانچ برسوں کے دوران برآمدات میں اضافہ پانچ‘ سات ارب ڈالر سے زیادہ نہیں۔ اس دوران حکومتوں نے برآمدکنندگان کو سستے قرضوں کی سہولت فراہم کی‘ روپے کی قدر میں نمایاں کمی بھی ہوئی لیکن ان اقدامات کے باوجود برآمدات میں حسب توقع اضافہ نہیں ہو سکا۔ ایک بڑا مسئلہ ملکی معیشت کی درآمدی نوعیت کا بھی ہے‘ دوسری طرف برآمدات کا بڑا حصہ روایتی اور کم ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر مشتمل ہے؛ چنانچہ ان مصنوعات کو عالمی منڈی میں زیادہ قیمت نہیں مل پاتی۔ صنعتی شعبے کو درپیش مسائل کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ مہنگی بجلی اور گیس‘ بلند شرح سود‘ بھاری ٹیکس‘ پالیسیوں میں عدم تسلسل‘ بے یقینی اور پیداواری لاگت میں غیرمعمولی اضافے نے پاکستانی مصنوعات کی عالمی منڈی میں مسابقتی حیثیت کو محدود کردیا ہے۔ جب مقامی صنعتکاروں کو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں مہنگی توانائی‘ مہنگا قرض اور زیادہ ٹیکس ادا کرنا پڑیں گے تو ان کیلئے عالمی منڈی میں اپنی مصنوعات مناسب قیمت پر فروخت کرنا آسان نہیں ہو گا۔

نتیجتاً بعض صنعتیں اپنی پیداواری سرگرمیاں محدود کرنے یا بیرونِ ملک منتقل کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ برآمدات میں اضافے کا ہدف صرف اعلانات اور مراعات کے ذریعے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس کیلئے جامع اور طویل مدتی صنعتی اور تجارتی پالیسی درکار ہے اور صنعتوں کو کم نرخوں پر توانائی‘ کم شرح سود پر قرض‘ ٹیکسوں کے نظام میں استحکام اور خام مال کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔ اس کے ساتھ ساتھ زرعی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی‘ فوڈ پروسیسنگ‘ پیکجنگ اور سٹوریج کے نظام کو بہتر بنا کر زرعی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل کو صرف دھاگے اور کپڑے تک محدود رہنے کے بجائے تیار ملبوسات اور اعلیٰ معیار کی مصنوعات کی طرف منتقل کرنا ہو گا۔ آئی ٹی‘ سافٹ ویئر‘ فری لانسنگ‘ انجینئرنگ‘ معدنیات اور ادویہ سازی جیسے شعبوں کو بھی برآمدی پالیسی کی ترجیحات میں رکھنا ہو گا۔ برآمدی مصنوعات میں تنوع اور نئی منڈیوں تک رسائی کے بغیر برآمدات میں اضافے کے اہداف کا حصول ممکن نہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں