تازہ اسپیشل فیچر

معرکہ حق: تاریخی فتح کا ایک سال

لاہور: (زاہد اعوان) آج سے ٹھیک ایک سال قبل، مئی 2025 میں جنوبی ایشیا کی فضائیں بارود کے دھوئیں سے نہیں بلکہ پاکستان کی فتح کی گونج سے معطر تھیں۔

آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ جسے مورخین اب ’’معرکہ حق‘‘کے نام سے پکارتے ہیں، صرف ایک فوجی آپریشن نہیں تھا بلکہ یہ ایک قوم کے وقار کی بحالی اور روایتی دشمن کے غرور کو خاک میں ملانے کا وہ سنگ میل تھا جس نے خطے میں طاقت کا توازن ہمیشہ کیلئے تبدیل کر دیا، ایک سال بیت جانے کے بعد بھی اس معرکے کی یادیں ہر پاکستانی کے دل کو گرما دیتی ہیں، جہاں عددی برتری کے زعم میں مبتلا بھارت کو وہ عبرتناک شکست ہوئی جس کی مثال جدید جنگی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

اس معرکے کا آغاز مئی 2025ء کے اوائل میں ہوا جب بھارت نے اپنی اندرونی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کیلئے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بانڈری پر اشتعال انگیزی کی تمام حدیں عبور کر دیں، بھارت نے پاکستان پر سرجیکل سٹرائیک کیلئے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو بنیاد بنایا۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلم اکثریتی علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو 26 سیاحوں کی ہلاکت کا الزام پاکستان پر لگاتے ہوئے 23 اپریل کو سندھ طاس معاہدہ فوری طور پر معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، بھارت نے پہلگام فالس فلیگ آپریشن کو جواز بناتے ہوئے پاکستانی شہریوں کو 48 گھنٹے میں بھارت چھوڑنے کا حکم دیا تھا، جبکہ واہگہ بارڈرکی بندش اور اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں تعینات اپنے ملٹری اتاشی کو وطن واپس بلانے کے علاوہ پاکستان میں تعینات سفارتی عملے کی تعداد میں بھی کمی کر دی تھی۔

بھارتی قیادت نے ایک بار پھر ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ کا راگ الاپتے ہوئے پاکستانی حدود کی خلاف ورزی کی کوشش کی، لیکن وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ اب پاکستان کی قیادت اور افواج ایک نئے عزم اور جدید ترین جنگی حکمت عملی کے ساتھ تیار بیٹھی ہیں۔

بزدل دشمن نے 6 اور 7 مئی 2025ء کی درمیانی شب پاکستان کے 6 شہروں احمد پور شرقیہ، کوٹلی، مظفرآباد، باغ، مریدکے اور کوٹلی لوہاراں میں سویلین آبادی اور مساجد کو میزائلوں سے نشانہ بنایا، افواج پاکستان کے دندان شکن جواب نے بھارتی فوجی ٹھکانے اور کئی طیارے تباہ کر دیئے، چوبیس گھنٹوں میں ہی بھارتی فوج نے سفید جھنڈے لہرا کر شکست تسلیم کر لی، لیکن اس کے باوجود بزدل دشمن باز نہ آیا اور اگلے روز راولپنڈی سمیت مختلف شہروں پر اسرائیلی ساختہ ڈرون حملے کئے جنہیں افواج پاکستان نے تباہ کر دیا۔

9 اور 10 مئی 2025ء کی درمیانی شب دشمن نے نورخان ایئربیس، مرید ایئربیس اور شورکوٹ ایئربیس پر میزائلوں سے حملہ کیا، پاک فضائیہ نے زیادہ تر میزائل فضاء میں ہی تباہ کر دیئے اور ہمارے تمام فوجی اثاثے محفوظ رہے، اس کے بعد پاکستان نے دشمن کو فیصلہ کن جواب دینے کا اعلان کیا، بھارت کا خیال تھا کہ وہ اپنی فضائی برتری اور بڑے دفاعی بجٹ کے سہارے پاکستان کو دباؤ میں لے آئے گا، لیکن آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ نے ان کے تمام مفروضوں کو ریت کی دیوار ثابت کر دیا۔

بھارت کی بزدلانہ جارحیت کے بعد افواج پاکستان نے ’’بنیان مرصوص‘‘(سیسہ پلائی ہوئی دیوار) کے عنوان سے ایک بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز کیا، پاک فضائیہ نے فضائی معرکے کے پہلے ہی 24 گھنٹوں میں دشمن کے جدید ترین طیاروں بشمول رافیل اور سخوئی 30 کو فضاء میں ہی ملبے کا ڈھیر بنا دیا، بھارت کو اس مختصر مگر شدید جنگ میں درجنوں جنگی طیاروں اور اپنے اہم دفاعی اثاثوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔

پاک فوج کے زمینی دستوں نے آرٹلری اور میزائل فورس کے بھرپور تعاون سے دشمن کی کئی اہم پوسٹوں کو نیست و نابود کر دیا، جس کے بعد بھارتی فوج میں بھگدڑ مچ گئی اور وہ عالمی برادری سے جنگ بندی کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوگئی۔

اس عظیم کامیابی کے پیچھے جہاں جوانوں کا لہو شامل تھا، وہیں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سیاسی بصیرت اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جرات مندانہ سپہ سالاری کا کلیدی کردار رہا، تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست کے ستون ایک پیج پر ہوں تو بڑی سے بڑی طاقت کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی پیشہ ورانہ مہارت اور وزیراعظم شہباز شریف کے سفارتی معرکوں نے پاکستان کو ایک ایسی ناقابل تسخیر قوت بنا دیا کہ مئی 2025ء کے بعد عالمی طاقتوں، بشمول امریکہ، نے پاکستان کی ایٹمی اور فوجی قوت کو نئے سرے سے تسلیم کیا، اب بھارت کی میلی آنکھ سے دیکھنے کی ہمت سلب ہو چکی ہے اور وہ کسی بھی مہم جوئی سے پہلے ایک ہزار بار سوچنے پر مجبور ہے۔

معرکہ حق کے بعد پاکستان کی ساکھ عالمی سطح پر اس قدر بلند ہوئی کہ آج پاکستان صرف خطے کا کھلاڑی نہیں بلکہ عالمی امن کا ضامن بن چکا ہے، یہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری اور سفارتی ساکھ کا ہی نتیجہ ہے کہ آج جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں، تو دنیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہیں، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان سب سے نمایاں اور کامیاب ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جو ملک کل تک اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا تھا، آج وہ عالمی تنازعات حل کرانے کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔

معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص کی پہلی سالگرہ کے موقع پر آج ملک بھر میں فتح کا جشن پورے جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے، جہاں شہر شہر منعقد ہونے والی پروقار تقریبات میں عوام کا سمندر اپنی افواج کی عظمت کو سلام پیش کرنے کیلئے سڑکوں پر نکل آیا ہے، اس تاریخی موقع پر اعلیٰ سول و عسکری قیادت کی جانب سے جاری کردہ خصوصی پیغامات میں اس فتح کو اللہ کی نصرت اور قوم کے اتحاد کا ثمر قرار دیا گیا ہے۔

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے تہنیتی پیغام میں جوانوں کے بے مثال جذبے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص نے دشمن کے ناپاک عزائم کو ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا ہے اور اب پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرات کرنے والوں کا انجام عبرتناک ہی ہوگا۔

ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ قومی دفاع میں فضائیہ کا کردار تاریخی ہے جو سنہری الفاظ سے لکھا جائے گا، دشمن کو سرینگر سے بھٹنڈا تک سبق سکھایا، فضائی سرحدوں کے محافظ ہیں۔

چیف آف دی نیول سٹاف ایڈمرل نوید اشرف کا کہنا ہے کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاک بحریہ نے نہ صرف اپنی سمندری حدود کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا بلکہ دشمن کی بحری جارحیت کے ہر منصوبے کو سمندر کی لہروں میں دفن کر دیا، ان پیغامات کے بعد عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، ہر سو سبز ہلالی پرچموں کی بہار ہے اور قوم اپنی قیادت کے اس بیانیے پر متحد نظر آتی ہے کہ اب پاکستان خطے میں صرف ایک عسکری قوت ہی نہیں بلکہ امن و ثالثی کا وہ محور بن چکا ہے جس کی مرضی کے بغیر جنوبی ایشیا کا کوئی فیصلہ ممکن نہیں۔

آپریشن بنیان مرصوص کی پہلی سالگرہ پر پاکستانی قوم اپنے شہدا کو سلام پیش کرتی ہے اور اپنی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتی ہے، اس جنگ نے ثابت کر دیا کہ جذبہ ایمانی اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج کسی بھی عددی برتری پر بھاری ہے۔

مئی 2025ء کے بعد کا پاکستان ایک خود اعتماد، متحد اور طاقتور پاکستان ہے، جس کا پلڑا اب جنوبی ایشیا کے توازن میں سب سے بھاری ہے، بھارت کیلئے پیغام واضح ہے کہ پاکستان کی طرف اٹھنے والا ہر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور ہر میلی آنکھ پھوڑ دی جائے گی، معرکہ حق کی یہ داستان آنے والی نسلوں کیلئے مشعل راہ رہے گی۔

میزائل شہدا کے نام

آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کی سب سے نمایاں اور علامتی جہت وہ میزائل تھے جنہیں بھارت پر برسایا گیا، ابتدائی طور پر جو میزائل فائر کئے گئے ان پر ان شہداء کے نام لکھے گئے جو بھارتی حملوں کے نتیجے میں شہید ہوئے تھے، میزائلز پر جو نام لکھے گئے ان میں سے چند درج ذیل ہیں، حوا بی بی، عروہ زبیر، محمد بن زبیر، عامل زبیر، عمر زبیر، عمر موسیٰ، ارتضیٰ۔ ان شہداء میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی تھی۔

پاکستان نے اپنی جوابی کارروائی میں عوامی مقامات کے بجائے ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے بھارت نے میزائل فائر کئے تھے، گویا یہ صرف ایک عسکری جواب نہیں بلکہ قربانیوں کی یاد کو تازہ کرنے اور قومی عزم کے اظہار کا ایک پیغام بھی تھا، سرحد پار اہداف پر ہونے والی اس کارروائی نے نہ صرف طاقت کے توازن کی یاد دہانی کرائی بلکہ اس امر کو بھی اجاگر کیا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر پاکستان کسی بھی قسم کی مصلحت کا شکار نہیں ہو سکتا، یہ واقعہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، جذباتی وابستگیوں اور دفاعی حکمت عملی کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے۔

زاہد اعوان سینئر صحافی ہیں اور دنیا میڈیا گروپ کے ساتھ منسلک ہیں۔