تازہ اسپیشل فیچر

2026: شدید موسمی تباہ کاریوں کا سال؟

لاہور: (محمد ارشد لئیق) موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات نے پوری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، ماہرین موسمیات اور سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ سال 2026ء دنیا کیلئے غیر معمولی اور شدید موسمی حالات کا سال ثابت ہو سکتا ہے۔

ان کے مطابق آنے والے مہینوں میں گرمی کی شدت نئے ریکارڈ قائم کر سکتی ہے، جبکہ مختلف خطوں میں جنگلاتی آگ، خشک سالی، شدید بارشوں اور طوفانوں کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے، ماحولیاتی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور کاربن گیسوں کے اخراج نے قدرتی نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے، جس کے نتائج اب پوری انسانیت کو بھگتنا پڑ رہے ہیں، اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کئے گئے تو مستقبل میں یہ موسمی خطرات انسانی زندگی، معیشت اور ماحول کیلئے سنگین بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ رواں سال کے آخر تک دنیا غیر معمولی شدید موسمی حالات کی طرف بڑھ رہی ہے، ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کے ماہرین کے مطابق 2026ء کے ابتدائی چار مہینوں میں ہی جنگلاتی آگ کے باعث پہلے کے مقابلے میں زیادہ رقبہ جل کر تباہ ہو چکا ہے، دنیا بھر میں اب تک تقریباً 15 کروڑ ہیکٹر (5 لاکھ 80 ہزار مربع میل) زمین آگ کی لپیٹ میں آ کر تباہ ہو چکی ہے، جو حالیہ اوسط سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ریکارڈ توڑ درجہ حرارت کے امکانات کے باعث صورتحال مزید سنگین ہونے کی توقع ہے۔

محققین کے مطابق ابھرنے والا ایل نینو(El Niño) موسمی پیٹرن 2026ء کو تاریخ کا گرم ترین سال بنا سکتا ہے، اگرچہ ایل نینو ایک قدرتی موسمی چکر ہے، لیکن اس کے اثرات انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ مل کر تباہ کن نتائج پیدا کریں گے۔

سائنس دان اب ایک ایسے سال کی پیشگوئی کر رہے ہیں جس میں عالمی سطح پر متعدد جنگلاتی آگ اور ریکارڈ ساز موسمی واقعات دیکھنے کو مل سکتے ہیں، کلائمیٹ سینٹرل کے ماہر موسمیات ڈاکٹر زکری لیب (Dr Zachary Labe)کا کہنا ہے کہ غیر موسمی شدید گرمی کی لہروں، بڑھتی ہوئی جنگلاتی آگ اور بلند ترین پہاڑی چوٹیوں پر برف کے غائب ہونے جیسے واقعات اس بات کا واضح انتباہ ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کس طرح شدت پسند موسمی حالات کو مزید خطرناک بنا رہی ہے۔

یہ سنگین انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سائنس دانوں نے ایل نینو سدرن آسیلیشن (El Niño-Southern Oscillation) کے قدرتی موسمی چکر میں ایک   سپر ایل نینو‘‘ مرحلے کی پیش رفت پر نظر رکھنا شروع کر دی ہے، ایل نینو سدرن آسیلیشن ایک قدرتی موسمی نظام ہے جو ہر دو سے سات سال کے دوران گرم ایل نینو اور ٹھنڈے لا نینا (La Niña)مرحلوں کے درمیان گردش کرتا رہتا ہے، اس چکر کے ایل نینو مرحلے میں بحرالکاہل میں جمع ہونے والے گرم پانی پھیل جاتے ہیں، جس سے زمین کی اوسط سطحی درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔

اس وقت عالمی حدت کو کسی حد تک ٹھنڈے لانینا پیٹرن نے قابو میں رکھا ہوا ہے، جس کی وجہ سے 2026ء گزشتہ برسوں کے مقابلے میں قدرے کم گرم ہے، تاہم اب سمندری سطح کے درجہ حرارت ریکارڈ کی بلند ترین سطحوں کے قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ بعض دنوں میں یہ 2024ء کے قائم کردہ ریکارڈ سے بھی تجاوز کر گئے ہیں۔

کئی ممتاز سائنس دانوں کے مطابق یہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دنیا صدی کے طاقتور ترین ایل نینو برسوں میں سے ایک کا سامنا کرنے والی ہے، ماہرین کو تشویش ہے کہ ایل نینو کی قدرتی شدت موسمیاتی تبدیلی کے باعث پہلے سے موجود گرمی کے ساتھ مل کر معمول سے کہیں زیادہ شدید موسمی حالات پیدا کرے گی۔

ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کی سربراہ اور امپیریل کالج لندن کی ماہرِ موسمیات ڈاکٹر فریڈریک اوٹو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایل نینو ایک قدرتی مظہر ہے جو آتا جاتا رہتا ہے، لیکن اب یہ ایک ایسے ماحول میں رونما ہو رہا ہے جہاں بنیادی درجہ حرارت پہلے ہی مسلسل بڑھ رہا ہے۔

اس صورتحال کو غیر معمولی اور تشویشناک بنانے والی بات ایل نینو کا وقوع نہیں بلکہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسے موسمی نظام میں ہو رہا ہے جو پہلے ہی نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 2026ء کے بارے میں قوی امکان ہے کہ یہ تاریخ کا گرم ترین سال ثابت ہو، جو 2024ء میں قائم کیے گئے ریکارڈ سے تقریباً 0.06 ڈگری سینٹی گریڈ (0.11 ڈگری فارن ہائیٹ) زیادہ گرم ہوگا۔

کلائمیٹ سائنسدان ڈاکٹر ڈینیئل سوین، جو کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ فار واٹر ریسورسز سے وابستہ ہیں، کہتے ہیں کہ جدید انسانی تاریخ میں ہم نے کبھی بھی ایسا مضبوط یا انتہائی مضبوط ایل نینو اس حالت میں نہیں دیکھا جب عالمی سطح پر پہلے ہی درجہ حرارت اتنا زیادہ ہو۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس بات پر حیرت نہیں ہونی چاہیے اگر 2026ء کے آخر سے 2027ء تک سیلاب، خشک سالی اور جنگلاتی آگ جیسے انتہائی موسمی اثرات میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے کو ملے۔ سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ اس سے دنیا بھر میں جنگلاتی آگ کے واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ورلڈ ویدر ایٹریبیوشن (WWA) کے مطابق اس سال پہلے ہی ایسے شدید درجہ حرارت دیکھنے کو ملے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے بغیر تقریباً ناممکن تھے۔

امریکہ میں کئی ریاستوں نے اپنی تاریخ کا سب سے گرم موسمِ ریکارڈ کیا جبکہ مارچ میں آنے والی ہیٹ ویو امریکی تاریخ کی سب سے زیادہ وسیع رقبے پر پھیلنے والی گرمی کی لہر ثابت ہوئی۔ اسی دوران بھارت کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 46 ڈگری سینٹی گریڈ (115 ڈگری فارن ہائیٹ) تک پہنچ گیا ہے۔

اس صورتحال کے نتیجے میں امریکہ کے براعظموں میں بڑے پیمانے پر جنگلاتی آگ بھڑک اٹھی ہے، جہاں چلی اور ارجنٹینا میں ہر منٹ تقریباً 25 ایکڑ زمین آگ کی نذر ہو رہی ہے، جبکہ نیبراسکا، فلوریڈا اور جارجیا میں بھی تاریخ کی سب سے بڑی آگ لگنے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ ایشیا میں بھی آگ پھیل چکی ہے، جہاں جاپان میں ہزاروں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا، جبکہ 1,400 فائر فائٹرز کئی دنوں سے جاری آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

سائنس دانوں نے خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے ساتھ جڑی گرم اور خشک موسمی صورتحال موجودہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے ساتھ مل کر ان حالات کو مزید بدتر بنا سکتی ہے، یہ تبدیلیاں سب سے زیادہ اثر ایمیزون کے بارانی جنگلات، اوشیانا اور جنوب مشرقی ایشیاء کے خطوں پر ڈالیں گی۔