تازہ اسپیشل فیچر

پانی کا تحفظ کرو، ملک کی تقدیر بدلو

لاہور: (شاہد محمود) معرکہ حق اور بنیان المرصوص میں ثابت کر دیا گیا کہ پاکستان نہ صرف عسکری میدان میں کثیرالجہتی اور ناقابل تسخیر قوت ہے بلکہ کسی بھی جارح کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج اور ملٹری لیڈر شپ نے دنیا کو مئی 2025 میں حیران کر دیا جب دنیا کی جدید اور کئی گنا بڑی نام نہاد عسکری اور معاشی قوت سمجھے جانے والے بھارت اور اسرائیل کی ٹیکنالوجی اور مذموم ارادوں کو شکست دی، اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل نے مئی 2025 میں بھارت کے ذریعے پاکستان کی قوت کا امتحان لیا ، اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلگام کا واقعہ بھی اسی شیطانی مشن کا حصہ تھا۔

گودی میڈیا کی 22 اپریل سے 10 مئی 2025 تک کی ٹرانسمیشنز اور دعوے سکرپٹڈ تھے جو وہ بول رہے تھے پلان ویسا ہی تھا، اس میں بھی کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ پلان یہ تھا کہ پہلے پاکستان پھر ایران اور پھر گریٹر اسرائیل، پاکستان نے معرکہ حق اور بنیان المرصوص میں اللہ تعالیٰ کی مدد اور کرم و فضل سے یہود و ہنود کا یہ منصوبہ خاک میں ملا دیا۔

عسکری کامیابی کے ساتھ ساتھ ہمیں ایک اور بڑے اور سنگین امتحان اور جنگ کا سامنا ہے جس میں ماضی میں بہت کمزوری اور کوتاہی دکھائی گئی ہے اگر اس کی طرف مکمل منصوبہ بندی اور جنگی بنیادوں پر توجہ نہ دی گئی تو ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے، میں جس سنگین ترین مسلے کی طرف توجہ دلانا چاہ رہا ہوں یہ بڑی حد تک ناسور بن چکا ہے اس پر دشمن بڑی فنڈنگ کر چکا ہے بہت زہر پھیلا چکا ہے جس کی سرجری کی بھی ضرورت ہے، یہ مسئلہ ہے پاک بھارت سندھ طاس معاہدے کا اپنی اصل شکل میں برقرار رہنا، مقبوضہ کشمیر میں پاکستانی دریاؤں کے بہاو میں مداخلت اور پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے سے مستقل روکنا ہے۔

بھارت پاکستانی دریاؤں دریائے چناب، دریائے جہلم اور دریائے سندھ کے پانیوں پر گزشتہ 25 سال سے باقاعدہ مداخلت کر رہا ہے، بھارت نے دریائے چناب پر 23 ہائیڈروپراجیکٹس کی منصوبہ بندی کی، 4 منصوبے تعمیر کر لئے دریائے جہلم پر بھارت نے کشن گنگا پن بجلی منصوبہ تعمیر کر لیا دریائے سندھ پر بھی پن بجلی منصوبے تعمیر کئے، خبریں یہاں تک آئیں کہ مکار بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کسی ایک مقام پر دریائے چناب کا پانی دریائے راوی میں منتقل کرنے کیلئے ربر ڈیم ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا، ایک مقام پر دونوں دریاؤں کو ملانے کیلئے چینل بھی تعمیر کر رہا ہے، انڈس واٹر کمیشن یا تو ان خلاف ورزیوں پر خاموش رہا یا برائے نام اعتراضات اٹھائے مضبوط موقف ہونے کے باوجود بگلہار ڈیم اور کشن گنگا کا مقدمہ ہارا
بنیادی اور بڑا سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا، کہاں سستی ہوئی کہا کوتاہی ہوئی؟

آیئے جائزہ لیتے ہیں گزشتہ 25 برسوں میں پاکستانی دریاؤں اور پانی کے ساتھ کیا ہوا ہر قدم پر سوال اٹھتا ہے، بگلہار اور کشن گنگا منصوبوں کے مقدمات پر غور کریں اور عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے پڑھیں، دونوں مقدمات لڑنے کیلئے پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کا جائزہ ہی لے لیں، پاکستان نے دونوں مقدمات میں بیوروکریٹ، جرنلسٹ اور یورپی وکلا کی خدمات لیں جبکہ بھارت جھوٹا ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ ججز، پانی کے ماہرین اور بین الاقوامی قوانین کے ماہر رضاکارانہ طور پر شامل تھے۔

صرف یہی دیکھ لیا جائے کہ بگلہار کے مقدمے میں اس وقت کے بیوروکریٹ سیکرٹری وزارت پانی و بجلی کو آبی امور، سندھ طاس معاہدے کی اصل روح اور بین الاقوامی قوانین کی کتنی مہارت تھی اور کیا اس وفد کو مقدمہ لڑنے کیلئے پورا مواد دیا گیا تھا، اس معاملے کی بھی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ دریائے سندھ پر دو بھارتی منصوبوں نے موبازگو اور چٹک کی تعمیر کی اجازت کس نے دی۔

یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ ماضی میں پانی کے شعبے سے وابستہ بڑے ذمہ داروں کا طرز زندگی میں غیرمعمولی تبدیلیاں کیسے آئیں اور اکثر بیرون ملک آباد ہوگئے، سوچنے کی بات ہے کہ ماضی میں کچھ آبی ماہرین اور حکومتی ذمہ دار بھارت جا کر واٹر شیڈ مینجمنٹ اور سندھ طاس معاہدے میں تبدیلی کی بات کیوں کرتے رہے، کیا ملک میں باقاعدہ خاموش مگر زہریلی تحریک جاری نہیں کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ذخائر بنا لے ہمیں جتنا پانی چاہیے دے دیا کرے، کیا ملک میں ڈیموں کی تعمیر کی مخالفت کے پیچھے تخریب کارانہ سوچ نہیں۔

کیا صوبوں کے درمیان پانی کے 1991 کے معاہدے میں تبدیلی کے مطالبے کے پیچھے کوئی سازش پنہاں نہیں کہ اسے تبدیل کر کے پاک بھارت سندھ طاس معاہدے کا جواز پیدا کیا جائے، ریور لنکنگ، سٹوریج پراجیکٹس اور دریائے چناب کے حقوق سے متعلق بھارتی لوک سبھا میں جمع بل بھارتی منصوبوں کی قلعی کھولنے کیلئے کافی ہے۔

گزشتہ سال سے بھارت نے نہ صرف سندھ طاس معاہدہ یک طرفہ معطل کیا بلکہ موسم برسات میں پانی کو بطور ہتھیار استعمال کر کے پاکستان میں سیلاب برپا کر دیا، رواں سال بھی بھارت اسی مذموم منصوبے پر کام کر رہا ہے، اگر بغور جائزہ لیا جائے تو بھارت دریائے راوی، بیاس اور ستلج پر تعمیر پونگ، تھین اور بھاکڑا ڈیمز 70 فیصد بھر چکا ہے تاکہ جب برسات شروع ہو تو سیلابی ریلاوں کے ساتھ ڈیموں کے دروازے کھول دے۔

جناب وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف صاحب، جناب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر صاحب معرکہ حق اور بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد اب آپ کو معرکہ تحفظ انہار بھی لڑنا ہے، اس کے لیے سندھ طاس معاہدے کا اصل شکل میں برقرار رہنا، بھارت کی مکارانہ چالوں کا ہر محاذ پر موثر جواب اور تدارک کرنا، ملک میں پانی کو محفوظ بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر ڈیموں کی تعمیر کرنا، ملک میں دریاؤں، ڈیموں اور سندھ طاس معاہدے کے خلاف جاری خفیہ تحریک کا قلع قمع اور ایکٹ آف وار کے مرتکب بھارت کو منہ توڑ جواب دینا ہو گا۔

ملک بھر سے ذہین طالب علموں کو حکومتی اخراجات پر بیرون ملک انٹرنیشنل لا میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئےبھیجنا ہوگا، حکومتی سرپرستی میں حقیقی اور قومی جذبے سے سرشار آبی ماہرین پر مبنی تھنک ٹینک بنانا ہوں گے جن کا کام پانی سے متعلق بھارتی چالوں کا توڑ نکالنا ہو، آبی ماہرین، قانونی ماہرین اور ٹیکنیکل ماہرین کی ایک ایسی ٹیم تشکیل دینا ہوگی جو عالمی عدالتوں میں بھارتی سازشوں کا سانس بند کر دے، ہمیں بھی ریور لنکنگ پر کام کرنا ہوگا تاکہ اگر بھارت دریائے راوی، بیاس اور ستلج پر پانی کو بتھیار بنائے کی کوشش کرے تو پانی کے سیلابی ریلوں کا رخ دیگر دریاؤں کی طرف موڑا جا سکے جس پر ڈیمز تعمیر ہوں، دریائے چناب پر قادر آباد، مڈ رانجھا، چنیوٹ اور شاہ جیونہ کے مقامات پر ڈیم تعمیر کرنا ہوں گے تاکہ سیلابی پانی رحمت بن سکے۔

جناب وزیراعظم صاحب، جناب فیلڈ مارشل صاحب وقت کم ہے امتحان بڑا ہے، قومیں بڑے بڑے اہداف کامیابی سے حاصل کر لیتی ہیں، بسم اللہ کریں آپ کر سکتے ہیں ملک کیلئے اصل گیم چینجر پانی کا تحفظ ہے۔