حج اسکینڈل :قادر گیلانی کو بچانے کیلئے حکومت اپوزیشن ’اتحاد‘

حج اسکینڈل :قادر گیلانی کو بچانے کیلئے حکومت اپوزیشن ’اتحاد‘

(ن)لیگ نے اپنے رکن کیطرف سے گیلانی کیخلاف کرپشن الزامات مسترد کردیے

اسلام آ باد (رپورٹ: رئوف کلاسرا) مسلم لیگ نواز نے اپنے ایک ایم این اے عمران شاہ کی طرف سے سابق وزیراعظم گیلانی کے بیٹے عبدالقادر گیلانی کے خلاف حج کرپشن کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور اب خاموشی سے’’ مفاہمتی پالیسی‘‘ کے تحت پیپلز پارٹی کے ایم این ایز کے ساتھ مل کر قومی اسمبلی سے سفارش کی ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر قادر گیلانی کے خلاف دبئی سے دو کروڑ روپے کی بلٹ پروف مرسیڈیز منگوانے پر اسے طلب کرنے والے انکوائری افسر ڈائریکٹر ایف آئی اے حسین اصغر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے ۔ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی جس میں پیپلز پارٹی، نواز لیگ اور دیگر پارٹیوں کے ارکان شامل ہیں، نے اب اپنی ایک چارج شیٹ میں انکوائری افسر حسین اصغر کے خلاف ایک چارج شیٹ اسمبلی میں جمع کرادی ہے اور وجوہات لکھی گئی ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی ہونی لازمی ہے ۔ہاؤس کمیٹی جو کہ ایم این اے عبدالقادر گیلانی کے اس احتجاج کے بعد تشکیل دی گئی تھی کہ ایف آئی اے کے اعلیٰ حکام انہیں ہراساں کر رہے تھے جس سے ان کا استحقاق مجروح ہوا تھا۔ اس کمیٹی کے چیئرمین ایم این اے عبدالغفور چوہدری تھے جب کہ ممبران میں وفاقی وزراءنوید قمر، شیخ وقاص اکرم، برجیس طاہر ، سید اللہ دین، ندیم افضل چن، محمود حیات خان ٹوچی خان، دونیا عزیز، ایس اے اقبال قادری، مولوی آغا محمد، محمد عثمان، ملک شکیل اعوان، نواب یوسف تالپور، غلام علی نظامانی، ساجد الحسن، رشید اکبر خان، جسٹس ریٹائرڈ افتخار احمد چیمہ، رضا حیات ہراج، نعیم لنگڑیال شامل تھے ۔کمیٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وزرات داخلہ نے بھی اپنی رپورٹ میں یہ لکھا تھا کہ انکوائری افسر نے بغیر ان سے مشورہ کیے نوٹس جاری کیا تھا ، حسین اصغر نے قانون کا غلط استعمال کیا تھا کہ ایم این اے کو بھی اپنی جان بچانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔حسین اصغر نے ذاتی تعصب کا مظاہرہ کیا تھا کیونکہ سابق وزیراعظم نے انہیں معطل کر کے اسلام آباد سے باہر تبادلہ کر دیا تھا اس لیے اس سے کسی قسم کی غیر جانبدار تفتیش کی توقع نہیں تھی اور ان کے خلاف ایک ایم این اے کو ہراساں کرنے پر کارروائی کی جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں