حلقہ بندیوں کے مطابق انتخابی فہرستیں: ذمہ داری صوبوں کے سپرد
انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے چاروں چیف سیکرٹریز کا جلاس 29 اکتوبر کو طلب
الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں بلدیاتی انتخابات کے فوری انعقاد کیلئے انتخابی فہرستوں کو حلقہ بندیوں کے مطابق ترتیب دینے کی ذمہ داری بھی صوبائی حکومتوں کو دے دی ہے اور انتظامات کو حتمی شکل دینے کیلئے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز کا اجلاس 29اکتوبر کو صبح 10 بجے اسلام آباد میں بلایا گیا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے ذمہ دار ذرائع کے مطابق صوبائی حکومتوں کو یہ ذمہ داری الیکشن کمیشن کے ان قانونی اختیارات کے تحت دی گئی ہے جس کے مطابق وہ کسی بھی حکومت یا سرکاری حکومتی ادارے کی خدمات اپنی معاونت کیلئے حاصل کرسکتے ہیں۔اس اقدام کا فیصلہ سپریم کورٹ میں صوبوں کی جانب سے دی گئی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کیلئے دی گئی تاریخوں کے انعقاد کے حوالے سے کیا گیا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کا اپنا مؤقف اس سے قبل یہ تھا کہ ہمیں انتخابی فہرستوں کی تیاری اور دیگر ضروری اقدامات کیلئے کم از کم 60 سے 90دن کی مدت درکار ہے اب جبکہ صوبے انتخابات کے انعقاد کی تاریخ دے چکے ہیں لہٰذا الیکشن کمیشن نے بھی اپنی ذمہ داریاں صوبائی حکومتوں پر ڈال دی ہیں اور اس طرح سے یہ خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ اگر صوبائی حکومتوں کے اقدامات میں بے قاعدگیاں پائی گئیں تو انتخابات کا انعقاد خطرے میں پڑ سکتا ہے ۔ کیونکہ الیکشن کمیشن جیسے تجربہ کار لوگ صوبائی حکومتوں کے پاس موجود نہیں ہیں اور نہ ہوتے ہیں اورصوبائی حکومتوں کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات پر مخالف سیاسی قوتیں بھی کئی اعتراضات کرسکتی ہیں۔ حقیقتاً یہ اس قانون کی نفی کی جا رہی ہے جس کے مطابق الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے کا اختیار دیا گیا تھا اور الیکشن کمیشن نے ذمہ داری قبول کرلی تھی لیکن عدالت عظمیٰ کی جانب سے جلد ازجلد انتخابات کے انعقاد پر اصرار کے بعد الیکشن کمیشن کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ پہلے تو الیکشن کمیشن نے خود عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ انہیں انتخابات کی تیاریوں کیلئے وقت دیا جائے لیکن عدالت عظمیٰ کی جانب سے آنے والے دباؤ کے بعد الیکشن کمیشن نے گیند صوبائی حکومتوں کی کورٹ میں پھینک دیا جنہوں نے انتخابات کے انعقاد کیلئے تاریخیں دے کر عدالت عظمیٰ کے سامنے تو سرخرو ہو گئیں لیکن الیکشن کمیشن کو مشکل میں ڈال دیا اور اب جواباً الیکشن کمیشن نے ذمہ داری اپنے قانون کو بنیاد بناتے ہوئے صوبائی حکومتوں کے ذمہ ڈال دی۔ انتخابی فہرستیں