اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر نہ ہوں تو پراجیکٹ نہیں چلتا، جسٹس منصور

اسٹیک ہولڈرز ایک پیج پر نہ ہوں تو پراجیکٹ نہیں چلتا، جسٹس منصور

پنجاب میں 1700ججز کے پاس 13لاکھ مقدمات زیر التواء ہیں، میڈی ایٹرز سے خطاب چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کا یکم جون سے تمام اضلاع میں مصالحتی سینٹرز قائم کرنیکا اعلان

لاہور(نمائندہ دنیا )لاہور میں مصالحتی سینٹرز کی کامیابی کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے یکم جون سے پنجاب کے تمام اضلاع میں مصالحتی سینٹرز قائم کرنے کا اعلان کردیا ۔پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں میڈی ایٹرز سے خطاب کے دوران جسٹس منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ آج کا سارا سلسلہ عام آدمی کی کہانی ہے ، پورے پنجاب کے عوام کیلئے کی جانیوالی کوششیں ہیں۔ پنجاب میں 1700 ججز کے پاس 13 لاکھ مقدمات زیر التواء ہیں لیکن ایسا کون سا کمپیوٹر سسٹم لے آوں کہ یہ مقدمات کو ختم کردیں۔ زیر التواء مقدمات کا مسئلہ ایک بہت تلخ حقیقت ہے ۔ یہ سارے مقدمے مقدمہ بازی سے نہیں بات کرنے سے حل ہونگے ۔ اگر کاروباری حضرات عدالتوں کے چکر لگاتے لگاتے تھک جائیں گے تو ملک کی معیشت کیسے ٹھیک ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سالہاسال سے زیر التواء مقدمات کو دو تین گھنٹوں میں حل کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مصالحتی نظام کا اقدام منصور علی شاہ کا نہیں ہے لاہور ہائی کورٹ کا ہے ، افراد معنی نہیں رکھتے ادارے افضل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک تمام سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر نہ ہوں تو کوئی بھی پراجیکٹ نہیں چلتا، ہم سوشل میڈیا کے ذریعے بھی لوگوں کو اے ڈی آرکی افادیت کے متعلق آگاہ کریں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی صرف ججز کے لئے ہی نہیں ہے ، وکلاء کے بھی ہے ، بار لیڈر شپ ہمیں اپنا پلان دیں ہم کورس کروانے کے لئے تیار ہیں، ہماری طاقت علم اور ریسرچ ہے اور کوئی دوسری سرگرمیاں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عدلیہ سے 50 فیصد سے زائد مقدمہ بازی اے ڈی آرکے ذریعے حل ہوجائے اور ہم اس میں ضرور کامیاب ہوں گے ۔وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل احسن بھون نے کہا کہ نظام انصاف کو مقصد ہی سائلین کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی ہے ۔ چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے فاضل جج صاحبان کے ہمراہ کامیابی سے تربیتی کورس مکمل کرنے والے 61 میڈی ایٹرز میں اسناد بھی تقسیم کیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں