سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس:پولیس آرڈر 2002 کی بحالی برطرفی کے اختیارات وزیراعلیٰ کو دینے پر اتفاق

سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس:پولیس آرڈر 2002 کی بحالی برطرفی کے اختیارات وزیراعلیٰ کو دینے پر اتفاق

عدالتی فیصلے کیخلاف قانون نہیں بنا رہے ، اسماعیل راہو، 40 فیصد قانون پر اتفاق ہو گیا، باقی پر بھی ہو جائے گا، فردوش شمیم نقوی پولیس کا اختیار واپس لینے کا تاثر غلط، نگرانی کیلئے پبلک سیفٹی کمیشن بنائیں گے ، مرتضیٰ وہاب، آئی جی سے اختلاف نہیں، امتیاز شیخ کی گفتگو

کراچی (رپورٹ:عبدالجبار ناصر) پرویز مشرف کے پولیس آرڈر 2002 ء کو سندھ میں بحال کرنے کے حوالے سے ترمیمی بل کے 40 فیصد حصے پر حکومت اور اپوزیشن متفق ہو گئے ، اتفاقی نکات میں پولیس پر نظر رکھنے کے لیے پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام، گریڈ 17 سے نیچے کی تقرریاں اور تبادلے کرنے کا اختیار پولیس انتظامیہ کو دینے ، گریڈ 18 یا اس سے اوپر کی تقرریوں کے لیے وزیراعلیٰ سندھ کی حتمی مشاورت اور برطرفی کا اختیار وزیراعلیٰ سندھ کو دینے کے امور شامل ہیں۔ سندھ اسمبلی کی 15 رکنی سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس بدھ کو کمیٹی کے سربراہ محمد اسماعیل راہو کی صدارت میں ہوا ۔ اجلاس میں صوبائی وزیر سعید غنی،مشیر اطلاعات مرتضیٰ وہاب، اپوزیشن لیڈر فردوس شمیم نقوی، خواجہ اظہارالحسن،قاسم سراج سومرو ، مفتی قاسم سومرو، حلیم عادل شیخ، شبیر بجارانی اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں اعلیٰ پولیس افسران کے تقرروتبادلے کے حوالے سے قانون کا شق وار جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیاسے گفتگو میں اسماعیل راہو کا کہنا تھا کہ حقیقی قانون وہ ہے جو عوام کو سہولت دے ، ہم پولیس کا اختیار لینا نہیں چاہتے ، سندھ حکومت چاہتی ہے کہ پولیس عوام اور نمائندوں کے تابع ہو۔ سول سوسائٹی اور آئی جی کو آن بورڈ لے کر تجاویز شامل کی ہیں۔ عدالتوں کے فیصلے کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جا رہا۔ 2002ء کا پولیس آرڈر حتمی نہیں، اس قانون میں موجود عوام دشمن چیزوں کو ہٹا دیا جائے گا، ابھی پروپوزل فائنل نہیں، تجاویز آ رہی ہیں جن پر اتفاق کرنا مقصد ہے ۔ پولیس میں سیاسی مداخلت کے خاتمے پر اتفاق ہے ۔ فردوس شمیم نقوی نے دعویٰ کیا کہ اجلاس میں 40 فیصد قانون پر اتفاق ہو گیا، باقی 60 فیصد پر بھی بیٹھ کر فیصلہ کر لیں گے ۔ حکومت کا رویہ مثبت رہا تو کام ہو جائے گا،۔ ہم تھانہ کلچر کا خاتمہ چاہتے ہیں، ہم 15 تاریخ کے اجلاس میں اس قانون کو پیش کریں گے ۔ مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پولیس کے اختیارات حکومت اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے ۔ پولیس افسران کے تبادلے آئی جی اور وزیراعلیٰ سندھ کی مشاورت سے ہوں گے ۔ پولیس پر نظررکھنے کے لیے صوبائی اور ضلعی پبلک سیفٹی کمیشن قائم کر رہے ہیں۔ صوبائی پبلک سیفٹی کمیشن میں بارہ ارکان ہوں گے ، جس میں 6 ارکان پارلیمان اور 6 ارکان سماجی شعبے سے ہوں گے ۔ ضلعی پبلک سیفٹی کمیشن کے 9 ارکان ہو ں گے ، جن میں 3 مقامی ضلع کونسل کے ارکان، 3 متعلقہ ضلع کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی اور 3 سماجی شعبے سے ہوں گے ۔ قانون سازی ہونے کے 30 روز کے اندر پبلک سیفٹی کمیشن قائم کریں گے ۔ اس بل کے تین اہم نکات ہیں جن میں پولیس کی خود مختاری، پبلک سیفٹی کمیشن اور صوبائی و ضلعی کمیٹیاں شامل ہیں، پبلک سیفٹی کمیشن پو لیس کے خلاف کارروائی بھی کر سکے گا۔ سندھ حکومت کی جانب سے 2002 ء کا قانون نافذ کرنا خوش آئند عمل ہے ، یہ قانون پنجاب میں نافذ العمل ہے تو سندھ میں کیوں نہیں ہو سکتا۔ مرتضیٰ وہاب کے مطابق خواجہ اظہار الحسن نے تجویز دی ہے کہ کسی آفیسر کو معطل کرنے کا اختیار وزیراعلیٰ سندھ کے پاس ہونا چاہیے ۔ پہلے متعلقہ آفیسر کو معطل کیاجائے پھر پبلک سیفٹی کمیشن حتمی فیصلہ کرے ۔ امتیاز احمد شیخ کا کہنا تھا کہ سندھ میں پولیس قانون دوسرے صوبوں جیسا بنا رہے ہیں۔ قانون سازی کے لیے عدالتی احکامات مدنظر رکھ رہے ہیں۔ آئی جی ہمارا ہے ان سے کوئی اختلاف نہیں۔ 2002ء کا قانون بحال کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ سلیکٹ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو (آج) دوبارہ ہو گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں