نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24گھنٹےسےکورونا کے کیسزبڑھ رہے ہیں،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- 125مریض آکسیجن پرمنتقل کیےگئےہیں،مرتضیٰ وہاب
  • بریکنگ :- اسپتالوں پردباؤبڑھناشروع ہوچکاہے،مرتضیٰ وہاب
Coronavirus Updates

نوکریوں کا جھانسہ ،پیسے بٹورنے پر گرفتاریاں کی گئیں :حسان

نوکریوں کا جھانسہ ،پیسے بٹورنے پر گرفتاریاں کی گئیں :حسان

لاہور(سیاسی رپورٹر سے )معاون خصوصی وزیرِ اعلیٰ پنجاب حسان خاور نے کہا ہے کہ تحریکِ انصاف کا منشور اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب کا اصول ہے کہ جماعت اور ان کی ذات سے متعلق کوئی منفی بات سامنے آئے تو پردہ ڈالنے کے بجائے حقائق کو فوراً سامنے لایا جائے ۔

یہی وجہ ہے کہ جب رواں ماہ 6 جنوری کو ڈی جی خان میں عوام نے کلثوم حنا نامی خاتون کے خلاف وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے تعلق کی بنیاد پر نوکریوں کا جھانسہ دے کر لوگوں سے پیسے بٹورنے پر احتجاج کیا تو وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے فوری تحقیقات کا حکم دیااور تفتیش کرنے پر یامین اور تمکین نامی افراد کی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔خاتون کے گھر چھاپہ مارا گیا تو جعلی پوسٹنگ آرڈرز اور جعلی مہریں برآمد ہونے پر اسے بھی گرفتار کر لیا گیا۔ حسان خاور نے مزید بتایا کہ موصوفہ ایک پروفیشنل جعلساز اور دھوکہ باز ہے جس کے خلاف 2008 سے شکایات موصول ہو رہی تھیں لیکن اوپر تک رسائی نہ ہونے کے باعث صرف جعلی آرڈرز بنائے گئے ۔

2018 میں عبوری حکومت کے دوران بھی اس خاتون کے خلاف فراڈ اور جعلسازی پر ڈیڑھ کروڑ روپے کا کیس بنا۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب یا پنجاب کابینہ کے کسی ممبر کا کوئی بھی عزیز قانون سے بالاتر نہیں ۔ پہلی بار وزیرِ اعلیٰ آفس سے واضح تردید کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا دامن صاف ہے لہٰذا ہم الزامات کا جواب دے رہے ہیں لیکن جب مسلم لیگ ن سے مسرور انور، شہباز شریف کی مِل کے چوکیدار کے اکاؤنٹ میں جمع کرائے گئے 3700 کروڑ، اسلم کیشئر کے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے 1780 کروڑ سمیت دیگر 14 ملازمین کے ذریعے 16 ارب روپے کی ہیر پھیر پر سوال کیا جائے تو وہ جواب دینا بھی گوارا نہیں کرتے ۔ اس موقع پر انہوں نے مسلم لیگ ن کے ورکرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ان کے محبوب قائد کو پاکستان واپس لانے کے لیے 9 سینئر ترین طبی ماہرین پر مشتمل سپیشل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا جو نواز شریف کی پراسرار بیماری سے متعلق رپورٹس کا جائزہ لے کر ان کی وطن واپسی کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔ حسان خاور نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی کونسی بیماری ہے کہ نواز شریف کے پلیٹ لیٹس پاکستان میں کم ہوتے رہے لیکن لندن جا کر وہ ہسپتال بھی داخل نہیں ہوئے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement