چینی قیمتوں میں روزانہ اضافہ، لاہور میں185، کوئٹہ230روپے کلو
لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد(عمران اکبر، آئی این پی، خصوصی نیوز رپورٹر)سٹہ باز او رملز مالکان کے آگے محکمہ خوراک بے بس، چینی کی قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ جاری، لاہور میں فی کلو 185 روپے، کوئٹہ میں 230 روپے کی ہوگئی۔
جبکہ لاہور میں 50 کلو چینی کا تھیلا 1 ہزار روپے اضافہ کے ساتھ 9ہزار روپے تک پہنچ گیا ،چھوٹی دکانوں اور بازاروں سے چینی غائب کر دی گئی۔دوسری طرف ملک میں بڑھتے چینی بحران کی وجہ سے حکومت نے شریف خاندان، جہانگیر ترین اور ذکا اشرف سمیت دیگر کی 38 شوگر ملوں کی مانیٹرنگ شروع کر دی ، ان ملوں میں ایف بی آر کی ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق چینی کی قیمت بڑھنے اورقلت کا سلسلہ تھم نہ سکا ، ذخیرہ اندوز شوگر مافیا من مانے ریٹس نکالنے میں مصروف ہے ،لاہور میں چینی کی فی کلو قیمت فروخت کم سے کم 185 روپے تک پہنچ گئی، 50کلو چینی کا تھیلا 9ہزار روپے تک پہنچ گیا ،اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کا تعین محکمہ خوراک کرتا ہے لیکن اس کے برعکس چینی کے منہ مانگے دام وصول کئے جا رہے ہیں۔ کوئٹہ میں ایک روز بعد ہی فی کلو چینی کی قیمت 25روپے بڑھ گئی اور بلند ترین سطح 230روپے تک پہنچ گئی، ایک روز قبل کوئٹہ میں چینی 205روپے کلو فروخت ہو رہی تھی جبکہ 50 کلو چینی کی بوری 1100 روپے اضافے کے بعد 10 ہزار500 روپے کی ہو چکی ، چمن میں بھی کلو چینی 230 روپے میں فروخت کی جا رہی کراچی میں ریٹ200 روپے ہے ،سرگودھا میں تین دن میں چینی کی قیمت میں 35 روپے فی کلو کا اضافہ ہوا اور کلو چینی 185 روپے تک چلی گئی۔ادھرسیکرٹری خوراک زمان وٹو کا کہنا ہے عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکلوانے کا سلسلہ جاری ہے ،اب تک 48 ارب روپے شوگر مافیا عوام کی جیبوں سے اڑا چکا،مافیا سرگرم ہے ،چینی کی قیمتوں پر شوگر ملز مالکان نے سٹے لے رکھا ہے۔
ادھر ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے چینی کی سیلز اور سٹاک کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے 38 شوگر ملوں میں مانیٹرنگ ٹیمیں تعینات کر دی ہیں جوچینی کی فروخت اور ملوں کے احاطے سے باہر جانے والی چینی کا روزانہ کی بنیاد پر ریکارڈ مرتب کریں گی،یہ مانیٹرنگ ٹیمیں غیر معینہ مدت تک یہاں موجود رہیں گی، جو سیلز ٹیکس چوری روکنے کے لیے ڈیٹا بھی مرتب کریں گی۔ذرائع کے مطابق جن شوگر ملوں میں ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں ان میں رمضان شوگر ملز، جے ڈی ڈبلیو، عبداللہ شوگر ملز، العریبیہ شوگر ملز، المعیز انڈسٹریز، اشرف شوگر ملز، چنار شوگر ملز، اتحاد شوگر ملز، فاطمہ شوگر ملز،حق باہو شوگر ملز، ہنزہ شوگر ملز، حسین شوگر ملز، انڈس شوگر ملز، جوہر آباد شوگر ملز، جے کے شوگر ملز، کشمیر شوگر ملز، لیہ شوگر ملز، مکہ شوگر ملز، مون شوگر ملز، پتوکی شوگر ملز، رسول نواز شوگر ملز، سفینہ شوگر ملز، سیون سٹار، شاہ تاج، شکر گنج، شیخو شوگر ملز، ایس ڈبلیو شوگر ملز، رحیم یار خان شوگر ملز شامل ہیں۔