آل پارٹیز اجلاس میں وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر کی قرارداد منظور

مظفر آباد: (دنیا نیوز) آل پارٹیز اجلاس میں وزیر اعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فیصل ممتاز راٹھور کی طرف سے پیش کردہ قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی، قرارداد میں جمہوری عمل، آئینی تسلسل اور ریاستی استحکام کے حق میں واضح مؤقف اختیار کیا گیا۔

آل پارٹیز کانفرنس مظفرآباد کا اہم اجلاس ایوان وزیر اعظم میں منعقد ہوا، سیاسی و مذہبی جماعتوں کی قیادت شریک ہوئی، آل پارٹیز اجلاس میں آزاد جموں و کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال، آئینی عمل اور عوامی امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔

اجلاس میں جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے شرکت کی۔

شریک رہنماؤں میں پاکستان مسلم لیگ کے شاہ غلام قادر، پاکستان پیپلز پارٹی کے چودھری یاسین، مسلم کانفرنس کے سردار عتیق الرحمٰن کے علاوہ سردار فاروق حیدر خان، سردار یعقوب خان، سردار تنویر الیاس، احمدرضا قادری، مولانا سعید یوسف، یاسر عباس نقوی، ڈاکٹر الیاس نے بھی شرکت کی۔

قرارداد کے متن کے مطابق عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین کو بھی اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی، انتظار کے باوجود عوامی ایکشن کمیٹی مشاورتی اور جمہوری عمل کا حصہ نہ بنی۔

آل پارٹیز اجلاس نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا، اجلاس کے مطابق کشمیری عوام کی جائز جدوجہد آزادی کی بھرپور سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رہے گی۔

اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی افواج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی گئی، آل پارٹیز اجلاس نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جبر، استبداد اور مظالم کو ناقابل قبول قرار دیا۔

قرارداد کے مطابق حریت قیادت اور کشمیری سیاسی کارکنان کی غیر قانونی نظر بندی اور قید قابل مذمت ہے، آزاد جموں و کشمیر میں جمہوری تسلسل اور آئینی عمل ریاستی استحکام کی بنیاد ہیں، سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، مگر ادارہ جاتی عمل کو کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

آل پارٹیز اجلاس کے مطابق مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی بھارتی کوششوں کی مذمت کرتے ہیں، سیاسی اختلاف کو نظم و نسق یا جمہوری ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، اجلاس میں جمہوری اداروں کو مزید مضبوط، فعال اور مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

قرارداد کے مطابق تمام سیاسی، سماجی اور عوامی حلقے برداشت، مکالمے اور پرامن سیاسی جدوجہد کو فروغ دیں، قومی سلامتی کے ادارے آزاد جموں و کشمیر کے ریاستی استحکام کا اہم ستون ہیں، دشمن ملک بھارت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاستی اداروں کے خلاف منظم پروپیگنڈا کر رہا ہے۔

آل پارٹیز اجلاس نے قومی سلامتی کے اداروں کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھا، اجلاس کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے ذمہ دارانہ سیاسی رویہ ناگزیر ہے، بھارت ریاستی اداروں اور جمہوری ڈھانچے کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

قرارداد کے مطابق ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنے کی بھارتی کوششیں کسی صورت قابل برداشت نہیں، آزادانہ، منصفانہ، شفاف، غیر جانبدارانہ اور پرامن انتخابات یقینی بنائے جائیں گے، عام انتخابات کے لیے تمام ضروری انتظامی، قانونی اور سکیورٹی اقدامات بروئے کار لائے جائیں گے۔

آل پارٹیز اجلاس کے مطابق آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے عام انتخابات آئین اور قانون کے مطابق مقررہ مدت میں ہوں گے، عوام کو بلا خوف و خطر، دباؤ یا مداخلت کے اپنے حق رائے دہی کے استعمال کا ماحول فراہم کیا جائے گا، انتخابی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی کسی بھی کوشش کا قانون کے مطابق سخت سدباب کیا جائے گا۔

قرارداد کے مطابق انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے، مؤخر کرنے یا متنازعہ بنانے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا، جمہوری عمل کا تسلسل برقرار رکھنا تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے، مہاجرین مقیم پاکستان کی نمائندگی ایک تاریخی اور آئینی حقیقت ہے۔

آل پارٹیز اجلاس میں مہاجرین جموں و کشمیر کی تحریک آزادی کشمیر اور تحریک تکمیل پاکستان کے لیے قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا، سیاسی جماعتوں کے لیے قابل قبول اصلاحات آئین کے مطابق قانون ساز اسمبلی کے ذریعے کی جا سکتی ہیں۔

قرارداد کے مطابق مہاجرین کی نمائندگی سے متعلق بعض انتخابی پیچیدگیوں کو اصلاحات کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے، آئینی اصلاحات عوام کے منتخب نمائندوں کا خصوصی اختیار اور مینڈیٹ ہیں، سیاسی جماعتوں، بار ایسوسی ایشنز، بار کونسل، سول سوسائٹی اور آئینی ماہرین سے مشاورت کی جائے گی۔

آل پارٹیز اجلاس میں موقف اختیار کیا گیا کہ آئینی اصلاحات کا معاملہ قانون ساز اسمبلی پر چھوڑا جائے، اجلاس میں آئینی اصلاحات کے لیے وسیع البنیاد مشاورتی عمل شروع کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔

آل پارٹیز کانفرنس نے واضح کیا کہ مسائل کا حل مکالمے، قانون، آئین اور جمہوری اداروں کے ذریعے ہی ممکن ہے، آل پارٹیز اجلاس کا پیغام واضح ہے، آزاد کشمیر میں جمہوری تسلسل، آئینی اصلاحات اور ریاستی استحکام پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں