سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم 2026 کا آغاز، 200 سے زائد ممالک کے وفود شریک

سینٹ پیٹرزبرگ: ( شاہد گھمن) روس کے تاریخی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں 29ویں سالانہ سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم (SPIEF 2026) کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے، جس میں دنیا بھر سے 200 سے زائد ممالک اور خطوں کے سرکاری وفود، سرمایہ کار، کاروباری رہنما، ماہرینِ معیشت اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شرکت کر رہے ہیں۔

چار روزہ فورم اس سال "عملی مکالمہ: ایک مستحکم مستقبل کی جانب" کے عنوان سے منعقد کیا جا رہا ہے، جہاں عالمی معیشت، توانائی، تجارت، سرمایہ کاری، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، صنعت اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سمیت اہم موضوعات پر درجنوں اعلیٰ سطحی اجلاس اور مباحثے ہوں گے۔

کریملن کے مطابق کئی برسوں بعد امریکہ کا ایک سرکاری وفد بھی فورم میں شرکت کر رہا ہے، جسے بین الاقوامی اقتصادی روابط کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، فورم میں روس سمیت مختلف ممالک کی بڑی کمپنیوں نے اپنے جدید اور شاندار پویلینز قائم کر رکھے ہیں، جہاں نئی ٹیکنالوجیز، صنعتی منصوبے، سرمایہ کاری کے مواقع اور اقتصادی ترقی کے ماڈلز پیش کیے جا رہے ہیں۔

پاکستان بھی اس اہم عالمی فورم میں شریک ہے۔ ابتدائی طور پر وفاقی وزیر توانائی علی پرویز ملک اور وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر کی شرکت متوقع تھی، تاہم بعد ازاں ان کا دورہ منسوخ کر دیا گیا، اب پاکستانی وفد کی قیادت چئیرمین سٹینڈنگ آن واٹر ریسورسز احمد عتیق انور کر رہے ہیں۔

وفد میں روس میں پاکستان کے سفیر فیصل نیاز ترمذی، وزیر تجارت و سرمایہ کاری شبانہ ممتاز بھی شامل ہیں، فورم کی مرکزی تقریب 5 جون کو منعقد ہوگی، جس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن پلینری اجلاس سے خطاب کریں گے۔


فورم کے دوران پاکستانی وفد مختلف ممالک کے حکام، سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرے گا، جن میں توانائی، تجارت، صنعت، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

کریملن کے مطابق صدر پوتن اپنے خطاب میں عالمی معیشت کو درپیش چیلنجز، روس کی اقتصادی حکمت عملی، بین الاقوامی شراکت داریوں اور مستقبل کی ترقی کے امکانات پر روس کا مؤقف پیش کریں گے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم بین الاقوامی اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور نئے تجارتی مواقع کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں ہونے والے رابطے اور معاہدے مستقبل کی اقتصادی سمت کے تعین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں