اسلام آباد ہائیکورٹ:190ملین پاؤنڈ ریفرنس میں عمران خان کی ضمانت منظور:آج سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی

اسلام آباد ہائیکورٹ:190ملین پاؤنڈ ریفرنس میں عمران خان کی  ضمانت منظور:آج سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی

اسلام آباد، لاہور ( اپنے نامہ نگار سے ، کورٹ رپورٹر )اسلام آبا د ہائیکورٹ نے 190ملین پاؤنڈ ریفرنس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی ضمانت منظور کر لی جبکہ آج سپریم کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے پیشی ہو گی ۔

سابق وزیر اعظم کی درخواست ضمانت 10 لاکھ روپے مچلکوں کے عوض منظور کی گئی، اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔ 14 مئی کو دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیاگیا تھا، بعدازاں مشتمل ڈویژن بینچ نے بانی پی ٹی آئی کا 190 ملین پاؤنڈز ریفرنس میں ضمانت منظوری کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا ،فیصلے میں کہا گیا کہ نیب نے اعتراف کیا کہ تحقیقات مکمل ہیں، ملزم کو مزید قید میں رکھنے سے کوئی  فائدہ نہیں ہوگا ، نیب پراسیکیوٹر نے خدشہ ظاہر کیا کہ بانی پی ٹی آئی سیاسی شخصیت ہیں ، نیب پراسیکیوٹر کے مطابق بانی پی ٹی آئی ریکارڈ ٹیمپرنگ یا ٹرائل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرسکتے ہیں تاہم نیب کے ان تحفظات کے حوالے سے ریکارڈ پر کوئی جواز موجود نہیں ، بانی پی ٹی آئی کی ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواست منظور کی جاتی ہے ، بانی پی ٹی آئی 10 لاکھ روپے کے مچلکے ٹرائل کورٹ میں جمع کرائیں ، ریفرنس کے حوالے سے عدالتی آبزرویشنز عبوری نوعیت کی ہیں، ٹرائل پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔واضح رہے کہ 9جنوری کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے بانی پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت مسترد کی تھی جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیا اور 26 فروری کو پہلی سماعت مقرر ہوئی ، پہلی کچھ سماعتوں کے دوران سائفر کیس میں سزا کے خلاف ہی سماعت ہوئی جبکہ وقت کی کمی کے باعث درخواست ضمانت پر کارروائی نہ ہو سکی ، اسلام آباد ہائی کورٹ نے 28 مارچ کو پہلی باقاعدہ سماعت کی ، ضمانت کے باوجود بانی پی ٹی آئی جیل میں ہی رہیں گے ، بانی پی ٹی آئی کی سائفر کیس اور عدت کیس میں تاحال سزا معطلی نہیں ہوئی۔ علاوہ ازیں جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا نے بانی پی ٹی آئی کو آزادی مارچ کے حوالے سے تھانہ کھنہ میں درج مقدمہ سے بری کر دیا۔ شواہد ناکافی ہونے کی بنیاد پر عدالت نے بانی پی ٹی آئی بریت کی درخواست منظور کی ۔ گزشتہ روز بریت کی درخواست پر محفوظ فیصلہ جوڈیشل مجسٹریٹ صہیب بلال رانجھا نے سنایا۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل سردار مصروف اور مرزا عاصم بیگ نے بریت کی درخواست پر دلائل دیئے ، بانی پی ٹی آئی کے خلاف مقدمہ آزادی مارچ اور دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر 2022 میں درج کیا گیا تھا۔

دریں اثنا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شاہ رخ ارجمند کی عدالت میں زیر سماعت دوران عدت نکاح کیس میں سزا کے خلاف بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی اپیلوں پر شکایت کنندہ خاورمانیکا کے وکیل راجہ رضوان عباسی کی عدم دستیابی کے باعث بانی پی ٹی آئی کے وکلا نے دلائل دیئے اور مختلف عدالتی حوالے پیش کیے ۔ گزشتہ روز سماعت کے موقع پر رضوان عباسی کے جونیئروکیل عدالت کے روبرو پیش ہوئے اور کہا کہ رضوان عباسی سے رابطہ نہیں ہو پا رہا ابھی تک بات نہیں ہوئی۔فاضل جج نے کہا کہ رضوان عباسی سے رابطہ کریں اور انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے حاضری کا بتائیں۔ میں آرڈر میں لکھوں گا ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہوں یا اپنے دلائل تحریری طور پر جمع کروائیں ۔آرڈر شیٹ رضوان عباسی کو وٹس ایپ کریں ، سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ کی استدعا پر عدت میں نکاح کرنے کے حوالے سے مفتی سعید کا ویڈیو بیان عدالت کے سامنے چلایا گیا ، بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 23 مئی تک ملتوی کر دی ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے انسدادِ دہشت گردی عدالت راولپنڈی سے بانی پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید سمیت اہم شخصیات کیخلاف 9 مئی کے مقدمات سے متعلق حکومت پنجاب کی کیس ٹرانسفر کرنے کیلئے درخواست پر 16 تک فریقین سے جواب طلب کرلیا،عدالت نے اس نوعیت کی دیگردرخواستوں کو یکجا کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت آج تک ملتوی کردی، عدالت نے ججوں کی تعیناتی بارے حکومت پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ صوبے کی پانچ انسداد دہشتگردی عدالتیں خالی ہیں، عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے معاملہ حل کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی، ابھی تک پنجاب حکومت کی جانب سے پیش رفت سامنے نہیں آئی ، سرکاری وکیل نے جمعرات تک رپورٹ پیش کرنے کیلئے مہلت کی استدعا کی اور کہا کہ راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں نو مئی واقعات کے کیس زیر التوا ہیں، بانی چیئرمین پی ٹی آئی، شاہ محمود قریشی، شیخ رشید سمیت دیگر رہنما کیسز میں نامزد ہیں، جج کے متعصبانہ رویے کی وجہ سے کیس کسی دوسری عدالت میں ٹرانسفر کئے جائیں ۔سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کالعدم قرار دینے کے خلاف حکومتی اپیلوں پر سماعت آج جمعرات کو ہوگی، بانی پی ٹی آئی آج ویڈیو لنک کے ذریعے پیش ہونگے ۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ سماعت کرے گا۔جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی لارجر بینچ میں شامل ہیں۔ ویڈٰیو لنک سے پیشی کے انتظامات مکمل ہوگئے ۔سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی کی اڈیالہ جیل سے ویڈیو لنک پر حاضری کا حکم دے رکھا ہے ، بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کالعدم قرار دی تھیں۔وفاقی حکومت نے 17اکتوبر 2023کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔ دوسری جانب راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز، زرتاج گل، زین قریشی اور راجہ بشارت سمیت 20 سے زائد ملزموں کی ضمانتیں منظور کرلیں۔9 مئی کے مقدمات میں نامزد سینکڑوں ملزموں کو عدالت میں پیش کیا گیا، پولیس نے 9 مئی کے مقدمات میں نامزد 500 سے زائد ملزموں کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا جہاں تمام ملزموں کی حاضری لگائی گئی، جس کے بعد عدالت نے پی ٹی آئی رہنماؤں شبلی فراز، راجہ بشارت، زرتاج گل اور زین قریشی سمیت 20 سے زائد ملزموں کی ضمانتیں منظور کرلیں۔عدالت کی جانب سے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپورکی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی منظور کرلی گئی، تاہم عدالت نے انہیں اگلی سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے ، بعد ازاں عدالت نے سماعت 29 مئی تک ملتوی کردی، آئندہ سماعت اڈیالہ جیل میں ہوگی۔جوڈیشل مجسٹریٹ ڈاکٹر سہیل نے پی ٹی آئی قیادت پر دفعہ 144 کی خلاف ورزی آزادی مارچ کے حوالے سے درج مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماو ں کی بریت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ۔ بانی پی ٹی آئی ، شاہ محمود قریشی ، صداقت عباسی ، سیف اللہ نیازی ، فیصل جاوید اور علی نواز اعوان کی درخواست بریت پر فیصلہ 27 جون کو سنایا جائے گا ۔ 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں