سویلینز کا فوجی ٹرائل کیس: لگتا ہے وکلا چاہتے ہیں لوگ قید میں سٹرتے رہیں: آئینی بینچ

سویلینز کا فوجی ٹرائل کیس: لگتا ہے وکلا چاہتے ہیں لوگ قید میں سٹرتے رہیں: آئینی بینچ

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر )اسلام آباد میں وکلا کے احتجاج کے پیش نظر راستوں کی بندش اور وکلا کے پیش نہ ہونے پر سپریم کورٹ میں فوجی عدالتوں ٹرائل کیس کی سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔

جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سات رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل پر سماعت کی۔سماعت شروع ہوئی تو سلمان اکرم راجہ کے معاون وکیل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ سلمان اکرم راجہ ٹریفک کے سبب عدالت نہیں پہنچ سکے ، سپریم کورٹ آنے کیلئے صرف ایک ہی راستہ مارگلہ روڈ والا کھلا ہے ۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا خواجہ حارث پہنچ گئے ، باقی لوگ بھی پہنچ گئے ہیں، آپ بھی تو آ گئے ہیں، سلمان اکرم راجہ اگر آدھا گھنٹہ پہلے نکل آتے وہ اس وقت یہاں موجود ہوتے ، لگتا ہے وکلا چاہتے ہیں لوگ قید میں سڑتے رہیں،ٹھیک ہے وکلا نہیں چاہتے تو کیا کیا جاسکتا ہے ،جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس میں کہا کہ فریق مقدمہ کے وکلا میں سے کوئی دلائل دینا چاہے تو دے سکتا ہے ، کیا ویڈیو لنک پر کوئی فریق مقدمہ کا وکیل ہے تو دلائل دے سکتا ہے ، جس پر عدالتی عملے نے بتایا کہ ویڈیو لنک پر بھی کوئی وکیل موجود نہیں ہے ، اس پر عدالت نے کہا ٹھیک ہے کیس کی سماعت آج تک ملتوی کر دیتے ہیں۔بعدازاں عدالت نے مختصر حکمنامہ جاری کیا جس میں کہا گیا کہ کیس سماعت کیلئے پکارا گیا، سلمان اکرم راجہ عدالت میں موجود نہیں تھے ، اس لیے کیس کی سماعت آج (منگل)تک ملتوی کی جاتی ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں