چین بھارت سے تجارتی تعلقات کے باوجود مکمل سہارا نہیں بنے گا
(تجزیہ:سلمان غنی) شنگھائی کانفرنس کے موقع پر پاک چین لیڈر شپ کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کا سلسلہ ایک نئے دور میں داخل ہوتا نظر آ رہا ہے ۔
چین کی جانب سے پاکستان کا کلیدی شراکت دار قرار دینے کا عمل پاک چین دوستی کی وہ کنجی ہے جسے دوطرفہ تعلقات کار کے ساتھ خطہ میں ترقی و استحکام کا ضامن قرار دیا جا سکتا ہے ۔ چین، روس سمیت اہم ممالک کی لیڈر شپ نے پاکستان کی علاقائی اہمیت و حیثیت کو سراہتے ہوئے دو طرفہ معاشی تعلقات کا عزم ظاہر کیا، خصوصاً چین کی لیڈر شپ نے پاکستان کی معاشی مضبوطی کیلئے پاکستان کو اپنا کلیدی شراکت دار قرار دیا ۔لہٰذا اس امر کا جائزہ ضروری ہے کہ بدلتے حالات میں پاک چین تعلقات کا رخ کیا ہوگا اور چین کی ترجیح پاکستان ہی رہے گا ۔
جہاں تک پاک چین تعلقات میں گرمجوشی کا سوال ہے تو یہ دوطرفہ تعلق دراصل محبت اور اعتماد کی بنیاد ہے ۔چین بھی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان وہ ملک ہے جس نے ہر مشکل وقت میں چین کا ساتھ دیا ہے ۔چین نے بھارت کے علاقائی کردار کے مقابلہ میں پاکستان کو اپنی ترجیح بنایا اور پاک چین قریبی تعاون جنوبی ایشیا میں چین کے اسٹرٹیجک اثر کے برقرار رکھنے کا ذریعہ ہے ۔ جہاں تک سی پیک کیلئے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا سوال ہے تو یہ پاکستان کی بڑی مارکیٹ اور افرادی قوت کے لئے اقتصادی شراکت داری کا میدان فراہم کرتی ہے ۔جہاں تک نئی پیدا شدہ صورتحال میں امریکی تحفظات کے بعد بھارت کے چین کی طرف جھکائو کا سوال ہے تو چین بھارت سے تجارتی تعلقات کے باوجود اس کے لئے مکمل سہارا اور اعتماد کا باعث نہیں بنے گا۔
اس کی بڑی وجہ یہ کہ چین اور بھارت کے درمیان بنیادی تضادات سرحدی کشیدگی اور خصوصاً بحر ہند میں اثر و رسوخ کی جنگ کے حوالہ سے موجود ہیں اور چین کو خوب معلوم ہے کہ امریکا نے بھارت کو چین کے مقابلہ کے لئے کھڑا کیا تھا اور چین نے بھارت کے مقابلہ میں اپنی ترجیح پاکستان کو بنایا تھا ،لہٰذا چین کے مقابلہ میں بھارت تو کھڑا نہ ہو سکا، البتہ چین کی مدد سے پاکستان نے بھارت کو پچھاڑ کر رکھ دیا ۔اصل کامیابی دوسرا مرحلہ ہے جس میں انڈسٹریل زونز ،ٹیکنالوجی اور زراعت کے بڑے منصوبے شامل ہیں ، لہٰذا چین تو پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے کہ اصل امتحان پاکستان کا ہے کہ کب یہاں استحکام آتا ہے ۔جہاں تک سی پیک کے علاقائی اثرات کا سوال ہے تو سی پیک محض ایک ترقیاتی منصوبہ نہیں، یہ خطے کے بدلتے توازن کا نام ہے ۔
ایک طرف یہ منصوبہ وسطی ایشیا ،مشرق وسطیٰ اور چین کو پاکستان سے جوڑ کر معاشی امکانات کے دروازے کھول رہا ہے تو دوسری طرف یہی حقیقت امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لئے تشویش کا باعث بن رہی ہے ۔جہاں تک چین کی جانب سے پاکستان میں اپنے انجینئرز اور شہریوں کے سکیورٹی پر تحفظات کا سوال ہے تو وزیراعظم شہباز شریف نے چینی قیادت کو سی پیک منصوبوں اور چینی انجینئرز و عوام کی سکیورٹی کی یقین دہانی کرائی ہے اور بتایا ہے کہ اس حوالہ سے ممکنہ اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ مذکورہ دورہ میں چینی قیادت نے پاکستان کو یقین دلایا کہ ہم ہر حوالہ سے پاکستان کے ساتھ ہیں، لہٰذا پاکستانی لیڈر شپ کے دورہ بیجنگ کے حوالہ سے یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ سی پیک کی نئی جہت، معاشی مضبوطی ،موثر سکیورٹی اور عالمی سطح پر یکجہتی کے نئے عزم کا اعادہ ہے ۔یہ دورہ محض سفارتی نہیں بلکہ مستقبل کے لئے پاک چین تعلقات کا روڈمیپ ہے ۔