اقلیتوں کے حقوق، قومی کمیشن کا بل منظور : پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اپوزیشن کی شدید نعرے بازی، قیدی نمبر804 کو کچھ نہیں ہوگا : وزیر قانون
اعظم تارڑ نے بل پیش کیا،160 ارکان کا حمایت 79 کا مخالف ووٹ ، پیپلزپارٹی کے قادر پٹیل، ایم کیو ایم کے محمد وسیم اوراے این پی کے ایمل ولی نے مخالفت کی ، شور شرابا پر سپیکر نے ہیڈفون لگا لیا آئین کو واپس درست کریں :فضل الرحمن ،اسلام کیخلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی، بیرسٹر گوہر،ہمارا سب کچھ حضور پاک ؐ پر قربان :ڈار ،قومی اسمبلی سیکر ٹریٹ ملازمین ترمیمی بل کی بھی منظوری
اسلام آباد(سٹاف رپورٹر، وقائع نگار ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں )پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 کو ترامیم کے ساتھ کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا ۔ اقلیتوں کے حقوق کے بل میں 160 اراکین نے حمایت اور 79اراکین نے مخالفت کی، اپوزیشن نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے شدید احتجاج اور نعرے بازی کی او ر ایوان سے چلے گئے ۔پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا جس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 پیش کیا، یہ بل صدر مملکت کی جانب سے بحث کیلئے واپس بھیجا گیا تھا، پیپلز پارٹی نے تحریک کی حمایت کی جبکہ پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل، ایک کیو ایم کے محمد وسیم نے مخالفت کر دی اور ایوان سے چلے گئے۔ سینیٹر عبد القادر اور ایمل ولی خان نے بھی بل کی مخالفت کی، اپوزیشن اراکین نے سپیکر ڈائس کے سامنے کھڑے ہو کر حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔
اپوزیشن کی شدید نعرے بازی کے باعث سپیکر اور وزیر قانون نے ہیڈ فون لگا لئے ۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قومی اسمبلی سیکر ٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025 متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ اس بل کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی میں ملازمین کی تعداد موجودہ اراکین قومی اسمبلی کی تعداد سے 4 گنا تک ہوگی ، موجودہ کسی ملازم کو نوکری سے برخاست نہیں کیا جائے گا تاہم آئندہ مقررہ تعداد سے زائد ملازمین نہیں بھرتی ہوسکیں گے ۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی نوید قمر نے قومی اسمبلی سیکر ٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025 پیش کرنے کی تحریک پیش کی ۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چودھری نے بل کی حمایت کی جس کے بعد سپیکر نے ایوان کی رائے حاصل کرنے کے بعد متفقہ طور پر بل منظور کر لیا ۔ایم این اے نوید قمر نے بل کے حوالے سے ایوان کو بتایا مستقبل میں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ یہاں مقررہ تعداد سے زیادہ بھرتی نہیں ہوگی ۔
انہوں نے کہا کہ اس بل کے بعد ہم یقینی بنائیں گے کہ کسی کی لگی ہوئی نوکری ختم نہ ہو لیکن آئندہ اس پابندی پر عمل درآمد یقینی ہوگا ۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ سپیکر کے اختیارات کم نہیں کیے گئے ،فنانس کمیٹی میں مشاورت کا عمل بڑھایا گیا ہے ۔ ہم یقین دہانی کراتے ہیں اس وقت جتنے بھی ملازمین ہیں ان میں سے کسی کو نکالا نہیں جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ قومی اسمبلی کے ملازمین کو ترقیاں دینے کے لئے گریڈ 20 سے نیچے افسروں کی ڈیپوٹیشن پر پابندی عائد کر دی گئی ہے ۔علاوہ ازیں مشترکہ اجلاس میں حیاتیاتی وزہریلے ہتھیاروں کی روک تھام کے بلز کثرت رائے سے منظور کر لئے گئے ۔ اپوزیشن کی جانب سے بلز کی مخالفت نہیں کی گئی۔ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے حیاتیاتی اور زہریلے ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق بل پیش کیا جسے کثرت رائے کی بنیاد پر منظور کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 کی مخالفت پر جے یو آئی کو بھی اس حوالے سے یقین دہانی کروائی ہے ، اس کے باوجود کامران مرتضی ٰ نے کہا کہ اس کی شق 35 کو حذف کر دیا جائے ، اس پر بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔یہ ایکٹ غیرمسلموں کے لئے ہے ، آئین پاکستان کے مطابق قادیانی غیر مسلم ہیں، یہ ہمارے خمیر میں نہیں کہ کسی بھی صورت ایسی قانون سازی ہو جس سے قادیانی فتنے کو ہوا ملے ، اقلیتی برادری بھی اتنی ہی محب وطن ہے جتنے ہم ہیں، ہم نے اپنے اللہ کے حضور پیش ہونا ہے ، یہ بل 12 سال سے زیر التوا ہے منظور کیا جائے ۔بل کی منظوری سے قیدی نمبر804کو کچھ نہیں ہوگا ۔جے یو آئی رہنما کامران مرتضیٰ نے کہا کہ ہم کبھی یہ تاثر نہیں دینا چاہتے کہ ہم اقلیتوں کے خلاف ہیں کیونکہ ہم اقلیتوں کو اپنے برابر کا شہری سمجھتے ہیں۔
کامران مرتضی ٰنے کہا کہ اس قانون میں دو چیزیں بہت قابل اعتراض ہیں، یہ قانون منظور ہوگیا تو قادیانیوں کے لیے بنایا گیا پہلا قانون غیر موثر ہو جائے گا لہذا اس قانون میں سے یہ شق نکالنی ضروری ہے ۔سربراہ جے یو آئی ف مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ مسئلہ اقلیتوں کے حقوق کا نہیں، اقلیتوں کے حقوق کیلئے ہم سب کی سوچ ایک جیسی ہے ، آپ اس طرح کا قانون کیوں لاتے ہیں جس سے کل کوئی غلط فائدہ اٹھائے ۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ مختلف معاملہ ہے ، قانون کے اوپر قانون کیوں بنانا چاہتے ہیں؟ وفاقی وزیر کو قادیانیوں کی چالاکیوں کا پتہ نہیں، ایسی کوئی قانون سازی نہیں ہونی چاہیے جس سے ان کو راستہ ملے ۔پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران قانون سازی کے عمل کے دوران بھی بعض اراکین نے واک آئوٹ کیا ،مولانا فضل الرحمن سمیت جے یو آئی کے اراکین ایوان میں موجود رہے ۔ چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں کہا کہ خواتین اور اقلیتیں ہمیشہ ان کی پہلی ترجیح رہی ہیں۔بطور وزیر اعظم بھی ان کا یہی وژن تھا کہ معاشرے کے کمزور طبقوں کے حقوق کا بھرپور تحفظ کیا جائے۔
خطاب کے دوران انہوں نے وزیرِ قانون سے استفسار کیا کہ کچھ اراکین اور صدرِ پاکستان کے جو تحفظات تھے ، کیا انہیں دور کر لیا گیا ہے ؟ جس پر وزیرِ قانون نے یقین دہانی کرائی کہ تمام اعتراضات کا ازالہ کر دیا گیا ہے ۔جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ 27 ویں ترمیم میں کی گئی غلطیوں کو واپس لیکر آئین کو واپس درست کریں۔ 26 ویں ترمیم کے برعکس 27 ویں ترمیم کے لیے جمہوری تقاضے پورے نہیں ہو سکے ، سیاسی لحاظ سے بہت بونے پن کا مظاہرہ کیا گیا، شعوری طور پر ایسا کیوں کیا گیا؟۔ کچھ مراعات ایسی شخصیات کو دی گئیں جس سے طبقاتی فرق پیدا ہوگیا ہے ، ہمیں شخصیات یا ان کے منصب سے مسئلہ نہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک ایسا فورم ہے جہاں ہم مشاورت سے معاملات طے کرتے ہیں، کوشش کی جائے کہ آئین متنازع نہ ہو لیکن 27 ویں ترمیم میں ایسا نہیں ہوسکا۔
انہوں نے کہا کہ 27 ویں ترمیم متنازع ہوگی اور اسے آئین کے ٹائٹل پر زخم سمجھا جائے گا، 1973 میں بھٹو کی دو تہائی اکثریت تھی مگر انہوں نے بھی مذاکرات کیے تھے ۔ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازی 26 ویں ترمیم میں بھی ہوئی تھی، ہم نے سود سے متعلق تجاویز پیش کیں جب 26 ویں ترمیم آئی تو پی ٹی آئی کے دوست رابطے میں رہے ، اس پر بھی ایک ماہ میں اتفاق رائے حاصل کرلیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پنجاب میں ڈی سیز ہاتھ مروڑ کر وزارت تعلیم سے علما کو رجسٹرڈ کروا رہے ہیں، آپ نے 18 سال سے پہلے کے شرعی نکاح کو جنسی زیادتی قرار دیا ہے مگر بچے جائز ہونگے ، یہ کہتے ہیں کہ اللہ کو جواب دینا ہے اللہ کو جواب دینے والے کام تو آپ کر چکے ہیں، آپ نے غلطیاں کی ہیں ان کو واپس کریں، آئین کو واپس درست کریں ۔ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈارنے کہا ہے کہ صدر مملکت آصف علی زرادری کی جانب سے قومی کمیشن برائے حقوق اقلتیاں 2025 پر اٹھائے گئے اعتراضات دور کر دیئے گئے ہیں، ہمیں ہر چیز کو سیاست کی نذر نہیں کرنا چاہیے۔
انہوں نے پیشکش کی کہ اگر کسی قانون کو بہتر کرنا ہے تو ہم اس کے لئے بھی تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکومتیں آنی جانی ہوتی ہیں ،کسی کی وراثت نہیں ہوتیں، ہمیں ہر چیز کو سیاست کی نذرنہیں کرنی چاہیے ۔ڈپٹی وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈارنے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسا بل زیر غور تھاجودونوں ایوان پاس کر چکے تھے جب صدر کے پاس گیا تو وہاں پر اعتراضات کے ساتھ بل واپس آیا اور اس کے بعد دوبارہ یہ بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں لا یا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایوان ، وزارتیں کچھ بھی نہیں ہمارا سب کچھ حضور پاک ﷺ پر قربان ہے ۔انہوں نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں جے یو آئی نے قومی کمیشن حقوق اقلتیاں بل2025 پر جو اعتراضات اٹھائے وہ دور کر دئیے گئے ہیں ۔ یہاں آج بھی ناموس رسالت کا نعرہ لگایا گیا اور اپوزیشن والے قیدی 804 کی رہائی کے نعرے کے ساتھ ایوان سے چلے گئے ،یہ روایت قوم دیکھ رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے بیرسٹر گوہر علی خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران کہا کہ اسلام کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہوسکتی، یہ پارلیمان متحمل نہیں ہوسکتا کہ اسلام کے خلاف قانون سازی ہو، قادیانیوں کا مسئلہ بہت حساس ہے ۔اس ایجنڈے میں آپ نے 7قوانین کو منظور کرنا ہے ، چاہتے ہیں ایسی قانون سازی ہو کہ جیسے ہماری پروٹیکشن ہوتی ہے ایسی اقلیت کی ہو، آئین میں لفظ مینارٹی نہیں ہے ۔ پیر نورالحق قادری نے کہا ہے کہ ہمارا اقلیتوں کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں، قادیانیت اسلام کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں جس کو عوام برداشت نہیں کر سکتے ، ہمارا وہی موقف ہے جو مولانا فضل الرحمن کا ہے ۔علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا ہے کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس کچھ لوگوں کو حقوق دینے کیلئے بیٹھے ہیں۔اس وقت پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ، جمہوریت، قانون اورفیصلہ سازی میں اپوزیشن لیڈر کا نہ ہونا کوئی اچھی بات نہیں، آپ کو اپوزیشن کے حقوق کا خیال رکھنا چاہئے۔
انہوں نے کہا ہے کہ یہ کوئی طریقہ کار نہیں کہ آپ اچانک آئیں اور بل دے دیں، تمام قانون سازی عجلت، جلدبازی میں ہوتی ہے ، جس چیز میں ابہام ہو وہ آگے نہیں بڑھ سکتی۔ پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ جس بل پر آج ہم بات کررہے ہیں یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کا کارنامہ تھا، شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو کافر قراردیا، اپوزیشن کی جانب سے اسرائیل کے خلاف کوئی بیان نہیں آتا۔انہوں نے کہا ہے کہ ایسے دروازے نہ کھولیں کہ حرمت رسولؐ پر کوئی سوال اٹھے ، محمدؐ اورآل محمد ؐکی ناموس پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی اورنہ ہونے دیں گے ، مولاناکی بات کی حمایت کرتا ہوں، یہ کہہ کر وہ ایوان سے چلے گئے ۔اجلاس غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دیا گیا۔