قومی خود مختاری کو دوبارہ چیلنج کیا تو دشمن پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار پائے گا : ایئر چیف

قومی خود مختاری کو دوبارہ چیلنج کیا تو دشمن پہلے سے زیادہ مضبوط اور تیار پائے گا : ایئر چیف

معرکہ حق کی فتح تینوں افواج کی ہم آہنگی، جارحانہ فیصلہ سازی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کا نتیجہ ہے پاکستان سب کیساتھ دوستانہ تعلقات چاہتا، سرحدی تحفظ کیلئے ہر قیمت چکانے کیلئے پرُعزم،پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب

اسلام آباد ( خصوصی نیوز رپورٹر)سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے کہا ہے کہ ہماری قومی خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا تو دشمن پاک فضائیہ کو پہلے سے زیادہ مضبوط اور بہتر تیار پائے گا، معرکہ حق کی فتح تینوں افواج کی ہم آہنگی، جارحانہ فیصلہ سازی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کا نتیجہ ہے ، پاک فضائیہ نے کم تعداد میں لڑنے کی روایتی میراث کو برقرار رکھتے ہوئے دشمن کے سب سے جدید طیارے مار گرائے ،ہمارے اقدامات اور آپریشنز مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ متوازن اور موزوں بھی تھے ،ہمارا مقصد تھا کہ عزت کے ساتھ امن قائم ہو، پاکستان سب کیساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے، سرحدی تحفظ کیلئے ہر قیمت چکانے کیلئے پرُعزم ہیں۔ یہ بات انہوں نے پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان، رسالپور کی پاسنگ آؤٹ پریڈ میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہی۔

ایئر چیف نے کہا کہ پی اے ایف اکیڈمی میں سعودی کیڈٹس کی موجودگی دونوں عظیم ممالک اور ان کی مسلح افواج کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون کی علامت ہے ،آپ کو مادرِ وطن کی فضائی سرحدوں کے دفاع کے مقدس مقصد کا امین بنایا گیا ہے ،پوری قوم کی امیدیں آپ کے نوجوان کندھوں پر ہیں،قوم اور پاکستان کی مسلح افواج نے اتحاد کی شاندار مثال پیش کرتے ہوئے دشمن کو اُس کی عددی برتری کے باوجود شکست سے دوچار کیا،معرکۂ حق میں حاصل ہونے والی فیصلہ کن کامیابی قومی طاقت کے تمام عناصر کے متحدہ کردار اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمتوں کا نتیجہ تھی،معرکہء حق کی فتح تینوں افواج کی ہم آہنگی، جارحانہ فیصلہ سازی اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ جب پاکستان کی خودمختاری پر حملہ کیا گیا، پاک فضائیہ نے کم تعداد میں لڑنے کی روایتی میراث کو برقرار رکھتے ہوئے دشمن کے سب سے جدید طیارے مار گرائے ،ہمارے اقدامات اور آپریشنز مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ متوازن اور موزوں بھی تھے ،ہمارا مقصد تھا کہ عزت کے ساتھ امن قائم ہو،دنیا نے اس سے قبل کبھی فضائی طاقت کے اتنے جرات مندانہ استعمال کو نہیں دیکھا، جو مخصوص ٹیکنالوجیز کے ساتھ مربوط تھا،حالیہ تصادم نے جدید دور کی فضائی لڑائی کے لیے ایک نصابی مثال قائم کر دی،2025 میں ایک بار پھر پاک فضائیہ نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور تمام شعبوں میں برتری کو ثابت کیا،ہم نے اپنی آپریشنل ڈکٹرائن کو جنگی تصورات اور حکمت عملی کے مطابق ترتیب دیا جس میں مالی وسائل کی محدودیت اور ٹیکنالوجیز کی دستیابی کو مدِ نظر رکھا گیا۔

پاک فضائیہ نے جدت طرازی کی ایک نہایت جارحانہ اور تخلیقی حکمت عملی کو اپنایا،پاک فضائیہ نے اپنے سمارٹ انڈکشن پروگرام کے ذریعے متعدد جدید لڑاکا طیاروں اور ٹیکنالوجیز کو ریکارڈ وقت میں شامل کیا،پاک فضائیہ کے ہر فرد کو ان کے پیشہ ورانہ طرزِ عمل اور مشکل حالات میں سخت محنت کے لیے خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں،پاک فضائیہ نے تمام افواج کے ساتھ مل کر بہادری اور ہم آہنگی سے وطن عزیر کا دفاع کیا ،پوری قوم پاک فضائیہ کی ہمت اور جرات پر فخر کرتی ہے،یہ فتح ہماری قومی قیادت کے پختہ عزم کا ثبوت ہے،پاک فضائیہ کی کارکردگی اُس کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے ،پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور سب کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے،اگر ہماری قومی خودمختاری کو دوبارہ چیلنج کیا گیا، تو ہمارا دشمن پاک فضائیہ کو کہیں زیادہ مضبوط، اور بہتر تیار پائے گا، ایک ذمہ دار جوہری طاقت کے طور پر، ہمارے تعلقات عالمی اور علاقائی اہم طاقتوں کے ساتھ مزید مضبوط ہوئے ہیں، پاکستان کی قومی قیادت اور افواج، ہماری بہادر اور پُرعزم قوم کے ساتھ، ملک کی نظریاتی، جغرافیائی و فضائی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہر قیمت چکانے کے لیے پرُعزم ہیں،پاکستان کے عوام کا اپنی مسلح افواج پر اعتماد بے مثال ہے ، جو دہائیوں کی بے لوث خدمت، قربانی اور قوم کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں