پنجاب :غیر مسلم مخصوص نشستوں کا بل ناقابلِ عمل قرار

پنجاب :غیر مسلم مخصوص نشستوں کا بل ناقابلِ عمل قرار

موجودہ طریقہ کار برقرار رکھا جائیگا ،ووٹ کی بنیاد پر سیٹ دینے کی تجویز قبول نہیں ابتدائی غور کے بعد بل سٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون سازی و نجکاری کے سپرد

لاہور(محمد حسن رضا سے )پنجاب کابینہ نے خواتین اور غیر مسلم مخصوص نشستوں سے متعلق آئینی ترمیمی بل مسترد کرتے ہوئے بل 2025 کو ناقابلِ عمل قرار دے دیا، صوبائی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ مخصوص نشستوں کا موجودہ آئینی طریقۂ کار برقرار رکھا جائے گا اور انہیں ووٹوں کی بنیاد پر دینے کی تجویز قابل قبول نہیں۔ حکومت پنجاب کے مطابق یہ معاملہ ایک نجی رکن کے آئینی ترمیمی بل کے ذریعے سامنے آیا تھا، جس میں آئین پاکستان کے آرٹیکل 51 اور 106 میں ترمیم کی تجویز دی گئی تھی۔ بل میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں خواتین اور غیر مسلموں کی مخصوص نشستیں سیاسی جماعتوں کی حاصل کردہ جنرل نشستوں کے بجائے ، ہر جماعت کے حاصل کردہ کل ووٹوں کی بنیاد پر دی جائیں۔ وفاقی وزارت قانون و انصاف نے وزارت بین الصوبائی رابطہ کے ذریعے اس بل پر صوبوں سے رائے طلب کی تھی۔ معاملہ سیاسی نوعیت کا ہونے کے باعث پنجاب حکومت نے اسے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا۔ ابتدائی غور کے بعد بل کو اسٹینڈنگ کمیٹی برائے قانون سازی و نجکاری کے سپرد کیا گیا، جہاں تفصیلی جائزے کے بعد اسے ناقابل عمل قرار دے کر مسترد کرنے کی سفارش کی گئی۔ کابینہ کے مطابق ووٹوں کی بنیاد پر مخصوص نشستیں دینے کی تجویز سے انتخابی نظام میں پیچیدگیاں اور آئینی تضادات پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ کابینہ نے وفاق کو تحریری جواب ارسال کرنے کی بھی منظوری دے دی ہے ، جس میں واضح کیا جائے گا کہ صوبہ پنجاب اس آئینی ترمیمی بل کی حمایت نہیں کرتا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں